Showing posts with label نثر. Show all posts
Showing posts with label نثر. Show all posts

Wednesday, 16 December 2015

Kaway Ka Khat Meray Naam

میں  بس کے پیچھے لٹک کر اپنے گھر کے نزدیکی اسٹاپ تک پہنچا....بس کے ”ڈسکو ڈانس“ کے سِحرزدہ ماحول سے نکلنے کے بعد میں  نے دیکھا کہ میرے سفید کاٹن کے استری اور کلف شدہ سُوٹ پہ دنیا کے کئی نقشے بن چکے تھے....مستقبل کی دنیا کی اس قدر واضح منظر کشی پہ ڈرائیور یقینا ”داد“ کا مستحق تھا لیکن میں  نے جب منہ کھولا ،تب تک بس روانہ ہوچکی تھی، یوں  ”داد“ بس کے پچھلے پائیدان سے ٹکرا کر رہ گئی....!
          گھر جانے کے لیے میں  نے قدم آگے بڑھائے ،کچھ دیر چلنے کے بعد ایک نسبتاََ ویران سی جگہ آگئی جہاں  سڑک کے اِرد گرد محض کھیت ہی کھیت تھے اور قرب و جوار میں  درخت نام کی بھی کوئی شئے نہ تھی....میں  مست خرام چلتا جا رہا تھا کہ اچانک میرے کانوں  میں  کائیں  کائیں  کی چند مانوس سی آوازیں  پڑیں ....میں  نے پلٹ کر آواز کی سمت دیکھا تو پتھر کا ہوتے ہوتے بچا....میری گھبراہٹ دو چند ہوگئی....کوں  کا ایک لشکر چیختا چنگھاڑتا میری طرف بڑھ رہا تھا.... میں  نے جائے پناہ کے لیے اِرد گرد نظر دوڑائی لیکن دُور دُور تک خالی سڑک میرا منہ چڑھا رہی تھی....میں  نے دِل ہی دِل میں  ”جل تُو ،جلال تُو“کا وِرد کرتے ہوئے سر پہ ہاتھ سے پنکھا جھلنا شروع کردیا کیونکہ کوں  سے میری آشنائی کوئی نئی بات نہ تھی ....میں  ان کی تمام حربی چالوں  سے بخوبی واقف تھا....اب بھاگنے کا چونکہ کوئی راستہ نظر نہیں  آرہا تھا اس لیے میں  نے میدان میں  ہی ڈٹ کر لڑنے کی ٹھانی تاکہ تاریخ مجھے سنہری الفاظ اور شہید کے القاب سے یاد کرے....میں  وہیں  سڑک کے بیچوں  بیچ رُک کر ”دشمنوں “ کی تعداد اور ان کی متوقع جنگی حکمت ِ عملی کے بارے میں  غور کرنے لگا....اگلے چند لمحوں  میں  کوں  نے مجھے فضا میں  آئے دشمن ملک کے طیارے کی طرح گھیر لیااور مجھے نرغے میں  لے کر میرے سر سے کچھ فاصلے پر دائرہ بنا کر اُڑنے اور کائیں  کائیں  کرنے میں  مصروف ہو گئے....اس سے پہلے کہ میری سماعت جواب دیتی،اُن میں  سے ایک کوا آگے بڑھا....اس کے گلے میں  کوئی تعویز نما کاغذ لٹک رہا تھا....اُس کوے نے آگے بڑھ کر پَر پھیلائے اوردیگرتمام کوے چپ ہوگئے .... مجھے لگا کہ یا تو وہ کوا اُن کا سردار تھا یا پھر کوئی چُھٹا ہوا بدمعاش....وہ کوا مجھ سے گویا ہوا:”مجھے پہچانا؟“....”جی نہیں “میں  نے ازحد خوش دِلی سے جواب دیا، مجھے لگا کہ وہ کسی اور شخص کی تلاش میں  غلطی سے مجھ تک آگئے ہیں .... کوے نے آنکھیں  نکالیں :”یاد کرو کچھ ہفتے قبل میں  دیگر جانوروں  کے ساتھ تم سے ملاقات کرنے آیا تھا“....کوے کی یادہانی پہ میرے چودہ طبق روشن ہوگئے ....”لل، لیکن ہمارے درمیان تو اُس دِن ایسی کوئی بات نہیں  ہوئی تھی کہ تم یوں  لالشکر لے کر چڑھ آتے “میری آواز تقریباََ گھگھیانے والی ہوگئی ....کوے کی آواز نرم ہوگئی ” ارے نہیں ! میں  تم سے لڑنے نہیں  آیا بلکہ تمہیں  یہ خط دینے آیا ہوں “....کوے کے گلے میں  لٹکتے ہوئے تعویز کے بارے میں  یہ جان کر کہ وہ خط ہے ، مجھے ذرا تعجب نہ ہوا....”کیا یہ پھر اُس نامعقول گدھے نے بھیجا ہے ؟“ میں  نے تیز آواز میں  کہہ کر کانی آنکھ سے کوں  کی طرف دیکھا....کوا بولا:”نہیں  یہ میرا خط ہے “.... مجھے حیرت ہوئی :”تو تم نے یہ خط کبوتر کے ہاتھ کیوں  نہیں  بھیجا؟“.... ”وہ دراصل ہم اپنا کام خود کرنے کے عادی ہیں “ کوے نے فخر سے سینہ پُھلایااور باقی تمام کوں  نے کائیں  کائیں  کا نعرہ بلند کر کے اُس کی تائید کی.... میں  نے دوبارہ کوے سے پوچھا ”تو تم یہ خط لے کر ہی کیوں  آئے ؟ اگر خود ہی آنا تھا تویونہی دُوبدو بات کر لیتے“....کوے سے زور زور سے پَر ہلائے اور اس سے پہلے کہ باقی کوے بھی اُس کی پیروی کرتے ،میں  نے فوراََ سے پہلے دُور اندیشی کا عظیم مظاہرہ کرتے ہوئے چشمہ اُتار کر جیب میں  رکھ لیا کہ کہیں  ان کے پروں  کی ہوا سے اُڑ ہی نہ جائے....”ساری باتیں  منہ زبانی کہنے کی نہیں  ہوتیں “ کوے نے منہ بنا بلکہ منہ پھیر کر کہا....کوے کے اس جواب پہ میں  حیران ہوا”کیا مطلب ؟؟؟“....” کیا تم میمو گیٹ اسکینڈل اور سوئس حکومت کو خط کے معاملے بھول گئے ہو؟“کوے کی اِس دلیل پر میں  نے گھبرا کے اِدھر اُدھر دیکھا ....خوش قسمتی سے قرب وجوار میں  میرے اور کوں  کی فوج کے علاوہ کوئی نہ تھا....”وہ بڑے لوگوں  کے معاملے ہیں ،ہم تم جیسے للّو پنجواس بارے میں  کیا جانیں ؟“ میں  نے کوے کو دندان شکن جواب دینے کی ٹھانی لیکن میرا لہجہ مجھی پہ ہنستاہوا معلوم ہوا....”اور اگر تم مجھ سے لڑنے نہیں  آئے تو پھر یہ فوج لانے کی کیا تُک بنتی ہے؟“ میری سوئی وہیں  اَٹکی دیکھ کر کواگویا مسکرایا”دراصل جب تم بس کے پیچھے لٹکے جھولا جُھولنے میں  مصروف تھے تو میں  نے کافی کوشش کی کہ تم تک پہنچ سکوں  لیکن نہ پہنچ پایا۔ میں  نے کافی پکارا ،تم نے تو کچھ نہ سُنا البتہ یہ میرے ہم جنس اکٹھے ہوگئے کہ ان کے خیال میں  مجھ پہ کوئی مصیبت آن پڑی تھی اور پھر باوجود میرے منع کرنے کے یہ میرے ساتھ ہی چلے آئے“....کوے کی زبانی الف لیلوی کہانی سُن کر میرے ہوش ٹھکانے آئے ....گو ،ابھی اُس سے کہنے سننے کو کافی کچھ تھا لیکن جس دَور میں  انسانوں  کا اعتبار نہ ہو ، وہاں  بے زبانوں  پہ اعتبار کرنے کی غلطی کون کر سکتا ہے ،سو،میں  نے کوے سے خط لیا اور جلد ی سے گھر کی راہ لی۔
          گھر میں  پہنچ کر سکون کا سانس لیا....کچھ دیر ”آرام در آرام“ کیا اورپھر آرام کرسی پہ بیٹھ کر کوے کا خط کھول لیا ....لکھا تھا کہ
رنگ برنگے فلسفوں اور بے ڈھنگے طور طریقوں والے نام نہاد دانشور، آداب!
          کچھ عرصہ پہلے جب تم نے کوں  کے بارے میں  ’کوے کی سی خصلت‘ نامی کالم لکھا تو میں  یہ سوچ کر چپ ہوگیا کہ تم نئے نئے لکھاری ہو ، موضوعات کی کمی ہوگی ۔سو ، تم نے ہمیں  موضوعِ سخن بنا لیا ،تو، کوئی بات نہیں  لیکن تم تو سر پہ ہی چڑھ بیٹھے ۔ ’اے پی سی ‘ میں  جہاں  تم نے تمام جانوروں  کے لیے نہایت ناموزوں  الفاظ والقاب استعمال کیے ،وہیں  ہم جیسی باشعور اورذہین مخلوق کو نالائق طالب علم ہونے کا طعنہ بھی دیا۔میں  کوں  کی جو فوج ساتھ لایا تھا وہ سب میرے سپاہی تھے او رآج کے واقعے کو تم محض ابتداءہی سمجھو کیونکہ اگر تم نے اپنے اگلے کالم میں  ’غلطی دُرست فرما لیں  ‘ کے عنوان سے اپنے اگلے پچھلے سیاہ کارناموں  کی معافی نہ مانگی تو اگلی بار جب تم بس کے پیچھے لٹکے تو گھر جانے کے قابل نہیں  رہو گے ۔ میری اِس دھمکی کو محض دھمکی مت سمجھنا کیونکہ تمہارے پاس نہ تو سابق آمر کی طرح راستے میں  بیمارہو کر ہسپتال پہنچ کر جان بچانے کا بہانہ ہوگا اور نہ ہی کوئی ’قائدِ تحریک ‘ تمہاری پشت پناہی کر سکے گا اور اگر تم نے اِس دھمکی کو بھی ہوا میں  اُڑا دیا تو یقینا وہ دِن دُور نہیں  جب تمہارے کسی کالم کا نام ’کوے کا انتقام ‘ ہوگا۔                          والسلام
                                                                   فقط       کوا ، ممبر اَمن کمیٹی انجمنِ جانواراں  پاکستان
میں  نے کوے کا خط ایک طرف اُچھالا اور اپنے چچا جان کی مشہور ِزمانہ ”مکھی مارکہ “ غلیل ڈھونڈنے میں  مصروف ہوگیا....!

Sunday, 13 December 2015

Gadhay Ka Khat Meray Naam

میں اپنی گلی میں پہنچا تو میرے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا....لیکن ٹھہریئے یہ جھماکا میرے ذہن میں ہونے سے ذرا قبل ایک جھپاکا سا گلی کے کونے میں بھی ہواتھا....یہ دراصل ہمسائیوں کا کتا تھا جو طالبان گردی پہ اتر آیا تھا....نجانے یہ میرے پینٹ کوٹ کے اتنا مخالف کیوں تھا؟....لیکن یہ وقت فلسفے کے داپیچ لڑانے کا نہیں بلکہ بھاگ کر جان اور پینٹ بچانے کا تھا....سو، میں نے رفتار میں طوفان میل کو مات دیتے ہوئے کتے کو پیچھے چھوڑااور بندوق سے نکلی ہوئے گولی کی طرح دروازے میں جا لگا۔خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ دروازہ کھلا تھا ....اس وقت مجھے کام والی مائی کی اس لاپروائی پہ بے پناہ پیار آیاجس پہ اس سے پہلے میں ہمیشہ اُسے جھاڑ پلاتاآیا تھا....آن کی آن میں گھر کی دہلیز پار کرکے میں نے اندرسے کنڈی چڑھائی اورپھولے ہوئے سانس پہ قابو پانے کے ساتھ ساتھ یہ غور کرنے لگا کہ آیا بین الاقوامی دوڑوں کے مقابلوں میںشریک ہونے والے کھلاڑی پریکٹس سیشنز میں کتوں سے مدد لیتے ہوں گے یا نہیں؟....!
          میں دروازہ بند کرکے پلٹا توایک کنکر میرے کان کو چھوتے ہوئے گزر گیا۔ اچانک ہی مجھے ”الہام“ ہوا کہ ”صہیونی طاقتوں“ نے حملہ کر دیا ہے ....میں نے اِدھر اُدھرنظر دوڑائی اور کیاری        میں لگے ایک گھنے پتوں والے پودے کے پیچھے جا چھپا ....عین اسی لمحے منڈیر سے بے طرح پھڑ پھڑانے اور قہقہوں کی آواز سنائی دی۔ میں نے کانی آنکھ سے جھانک کر دیکھا تو ایک کبوتر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوئے جارہاتھا۔میں کھسیانہ سا ہو کر کپڑے جھاڑتا ہوا صحن میں نکل آیا۔ کبوتر فوراََ ہی نیچے اُترا اور اسی پودے کی ایک شاخ پر بیٹھ گیا جس کے پیچھے تھوڑی دیر پہلے میں ”پناہ گزین “تھا۔کبوتر کے پنجے میں تُڑا مُڑا سا ایک کاغذ بھی تھا جو اس نے میں میری طرف بڑھایا۔میں نے کبوتر کو گھورتے ہوئے کاغذلیا ....اسی لمحے مجھ پہ انکشاف ہوا کہ یہ تو وہی کبوتر تھا جو کچھ دن پہلے دیگر جانوروں کے ساتھ بن بُلایا مہمان بن کر میرے گھر آیا تھا.... مجھے اس پہ بے پناہ غصہ آیا:”تو یہ پتھر تم نے پھینکا تھا؟تم کہاں کے درویش ہو؟ اگر یہ پتھر میری آنکھ میں لگ جاتاتو ؟“....کبوتر نے منہ بنایا:”میں نے درویش ہونے کی نشانی کے طور پہ ہی تمہیں پتھر مارا تھا“....”کیا مطلب ہے تمہارا؟“ ....”لگتا ہے تم نے وہ حکایت نہیں سنی جس میں ایک درویش نے سوال پوچھنے والے کو پتھر مار کر اس کا سر پھاڑ دیا تھااوررہی بات تمہاری آنکھ پھوٹنے کی تو اس طرف تمہاری پشت تھی“.... کبوتر کے فلسفیانہ ہٹ دھرمی نے مجھے سیخ پا کر دیا :” اور اگر پتھر سے میرا سر زخمی ہو جاتاتو؟“....لیکن کبوتر نے بھی جیسے نہ ہارنے کی قسم کھا رکھی تھی” پتھر میں نے تمہیں اس لیے مارا تھاکہ جس رفتارسے تم گلی سے گزر کر گھر تک آئے تھے ،مجھے خطرہ تھا کہ تم کہیں خط لیے بناہی اندر نہ چلے جا“....کبوتر سے اس گفتگو کے دوران مجھ پہ دو انکشافات مزید ہوئے۔ایک تو یہ کہ درویشی کا کبوتر سے دور دورکا کوئی واسطہ نہیں....انہیں تو بس ”بد سے بدنام برا“ والے محاورے نے بدنام کر رکھا ہے اور دوسرا یہ کہ ہو نہ ہو اس کبوتر کا شجرہ کسی نہ کسی وکیل یا واعظ سے ضرور ملتا تھا وگرنہ وہ ہر بات کے حوالے سے اتنے تفصیلی دلائل نہ دیتا....”یہ کیا ہے “ میں نے ہاتھ میں پکڑے کاغذ کے پرزے کی طرف اشارہ کیا....”یہ گدھے بھائی جان نے تمہارے نام خط لکھا ہے“کبوتر نے پہلی مرتبہ کوئی سیدھا جواب دیا۔ ”میری بات سنو ،امریکیوں کو تو گدھے گھوڑے کو تمیز نہیں ہے لیکن تم تو اچھے خاصے عقل مند پرندے ہو،تمہیں اس گدھے کی خاطر یوں خوار ہونے کی کیا ضرورت تھی؟“ میں نے کبوتر کو ورغلایالیکن وہ ہتھے سے اُکھڑ گیا”یہ سب گروہ بندیاں اور کام چوریاں تم انسانوں کا شیوہ ہیں،ہمیں تو تم معاف ہی رکھو“....مجھے اس سچ پہ اس قدر غصہ آیا کہ میں منہ پھیر کر اندر کمرے کی طرف چل دیا۔کبوتر بھی پُھر سے اُڑگیا۔ کمرے میں پہنچ کر میں نے خط کھولا تواس کا متن کچھ یوں تھا؛
”اے نام نہادکالم نگار اورخود ساختہ دانشور، آداب!
          پچھلے دنوں خشت سازی کے بَھٹے پہ میں اپنے مالک کی معیت میں اینٹیں ڈھونے پہنچا۔وہاں دو مزدور تمہارے کالم پہ دندیا ں نکال رہے تھے۔میں ریڑھے میں جُتاہونے کی وجہ سے شاملِ گفتگو نہ ہو سکا۔انہی دو کی باتوں سے پتہ چلا کہ تم نے ہماری بے ضرر ملاقات کو اے پی سی کہا اور ہمیں بن بُلائے مہمان قرار دیا۔اس کالم میں تم نے صرف ایک ہی پتے کی بات کی جو کہ میرے متعلق تھی جس میںتم نے مجھے امریکی ریپبلکن پارٹی کانمائندہ کہا لیکن تمہاری یہ بات بھی طنز و تشنیع میں لپٹی ہوئی تھی گومیں نے موقع پر ہی پَلٹنیاں کھا کھا کر احتجاج ریکارڈ کرانا چاہا لیکن وہاں موجود کسی نے میری طرف توجہ نہ کی۔اسی شام میں نے تمہارے کالم اور ہرزہ سرائی کا تذکرہ اپنی انجمنِ جانوراں میں کیا تو تمام جانور غصے سے بھر گئے۔انہوں نے فی الفور ایک مذمتی قرارداد منظور کی ۔پریس کانفرنس کرنے کا بھی ارادہ تھا لیکن تم واپڈا کو دعائیں دو ....ڈیڑھ گھنٹہ پریس کلب میں بنا بجلی کے پسینہ چھڑانے کے بعد پریس ریلیز موخر کرنا پڑی....اور ہاں،ایک بات تو میں بتانا ہی بھول گیا۔انجمنِ جانوراں کے اجلاس کے دوران تمہارے کالم کے نازیبا الفاظ پہ فاختہ بی اور بھینس محترمہ کاہتک ِعزت کے احساس سے برا حال تھا۔ ان کی اس حالت کو دیکھ کر قائدین حزب اختلاف کتااور بکرا تو اسی وقت دفعہ 302کے ارتکاب پر تُل گئے تھے لیکن تمہاری قسمت نے یہاں بھی تمہاری یاوری کی اور CNGاسٹیشن کے باہر شیطان کی آنت کی طرح لمبی قطاریں دیکھ کر ہر دو جانوروں کو اپنا ارادہ ملتوی کرناپڑا۔اور ہاں لگے ہاتھوں تمہیں یہ بھی بتادوں کہ خط کو آدھی ملاقات کہا جاتا ہے لیکن تم اسے ایک چوتھائی ملاقات ہی سمجھو کیونکہ میں اپنا پتہ دے کر تمہیں زیادہ فری نہیں کرنا چاہتا ....البتہ ”اوپر“سے ملنے والی ہدایات وقتاََ فوقتاََ انجمنِ جانوراں کی منظوری سے تم تک پہنچاتا رہوں گا۔تمھیں چاہیے کہ ہماری مخالفت ترک کر دو کہ آخراس میں رکھا ہے کیاہے سوائے ڈرون حملے کے؟ گو اشارہ سمجھنے کی بات تو عقل مند کے لیے ہے لیکن میں اُمید رکھتاہوں کہ کچھ نہ کچھ تمہارے پلے بھی پڑ ہی گیا ہوگیا۔
                                                                                      فقط
                                                          گدھا     سیکرٹری جنرل انجمنِ جانوراں پاکستان(AJP)“
٭٭٭

Friday, 11 December 2015

APC (All Parties Conference)

چھٹی کا دن تھا۔میں  اپنے گھر میں ایک دوست کے ساتھ محوِ گفتگو تھا۔میرا دوست مسلسل مجھے زِچ کرنے پہ تُلا ہواتھاکہ وہ بچپن میں  بہت بہادر تھا اور کالج کی دیوار کے باہر لگے سفیدے کے درختوں  کی شاخوں  سے لپٹ کر برسرِ عام جھولا جُھولتا تھاجبکہ اس کا خیال تھا کہ میں  ازحد ڈرپوک واقع ہوا تھااور ایسی کسی حرکت کے خیال سے ہی میری جان جاتی تھی۔ کافی دیر چپ چاپ رہنے اوردل میں  پیچ و تاب ”کھانے“ سے میراحوصلہ بڑھا اور اور میں  نے جوابی حملہ کیا کہ اگر درختوں سے لٹک کر جھولا جُھولنے کو تم بہادری سے تعبیر کرتے ہو تو مجھے اپنی بزدلی پہ فخر ہے کیونکہ بندروں  کی طرح شاخوں  پہ پینگیں  جُھولنے سے ڈارون کانظریہءِارتقاءسچا دکھائی دینے لگتا ہے اور میں  مسلمان ہونے کے ناطے ایسی کسی ”صیہونی سازش“ کا حصہ نہیں  بننا چاہتا تھا۔میرے تابڑ توڑ حملے نے میرے دوست کے دانت کسی حد تک کھٹے کر دیئے اور ابھی ہم ڈارون کی تھیوری کا از سرِ نو جائزہ لے ہی رہے تھے کہ دروزے پہ دستک ہوئی....!
          میں  نے دروازہ کھولا تو باہر کوئی انسان نما مخلوق دکھائی نہ دی....میں  نے اِدھر اُدھر جھانکا کہ مبادا کوئی شریر بچہ ہو لیکن چند جانوروں  کے علاوہ کچھ نظر نہ آیا....میں  پلٹنا ہی چاہتا تھا کہ غراہٹ سنائی دی ”ارے یہی تو ہے وہ“، میں  نے غور کیا تو ایک کتا گدھے سے مخاطب تھا اور تھوتھنی سے میری سمت میں  اشارہ بھی کیے جارہا تھا....پھر میں  نے دیکھا کہ گدھا کہہ رہا تھا ” ہاں ،ہے تو یہی لیکن یہ واپس کیوں  جارہاہے؟“،اس کا جواب آسمان کی طرف سے موصول ہوا”شاید اندر پردہ کرانے جارہاہو“، مجھے لگا کہ واقعی افلاک سے نالوں کا جواب آنے لگا ہے لیکن اوپر دیکھاتو ہمسائیوں  کے گھر کی فصیل سے ذرا نیچے ایک اونٹ کھڑا نظر آیا....معاملہ کافی دلچسپ معلوم ہو رہا تھا....سو،میں  نے اب کی بار براہِ راست باہر ایک قطار میں کھڑے کوئی درجن بھر جانوروں  کو مخاطب کیا”کیا کال بیل آپ نے بجائی ہے؟“....”اور نہیں  تو کیا آپ کے فرشتوں  نے بجائی ہے؟“میں  نے چونک کر دائیں  جانب دیکھا تو ایک میمنا کھلکھلا رہا تھا۔ ”آپ سب یہاں  کسی دھرنے میں شرکت کے لیے آئے ہیں ؟“میں  نے ان کی تعداد پر طنز کیا۔ ”بھائی !ہم ادب آداب والے جانور ہیں  اور مل بیٹھ کر آپ سے مختلف موضوعات پہ بات کرنا چاہتے ہیں ،کیا ہم اندر آسکتے ہیں  یا یہیں  گلی میں  ہی کھڑے رہیں  گے؟“ یہ گدھے کا کہنا تھا....مجھے اُس کے بھائی کہنے پہ بے حد غصہ آیالیکن چپ رہا کیونکہ وہ تعداد میں  زیادہ تھے اور تھے بھی سارے ڈنگر....اب کی بار ایک بکرے نے صف میں  سے منہ نکالا اور گویا ہوا”بھائی جان،آپ گھر میں  پردہ کرائیں  اور ہمیں  اندر بلائیں “ ....”لیکن گھر میں  تو کوئی نظر نہیں  آرہا“یہ آواز چھت کی منڈیر سے آئی تھی ،میں  نے دیکھاتو وہاں  ایک عدد فاختہ ،کوا ،طوطا اور کبوتر میرے گھر میں  ”جھاتیاں “ مار رہے تھے اور یہ ہرزہ سرائی غالباََ فاختہ نے کی تھی۔میں  نے ایک نظر سب کو دیکھا اور پھر جی کڑا کرکے دروازے کے دونوں  پَٹ کھول دیئے۔ دروازے سے اندر داخل ہونے والوں  میں  گدھا، کتا،بلی ،بکرا ،میمنا اور بھینس شامل تھے ....البتہ اونٹ دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہواجبکہ کبوتر ،کوے،طوطےاور فاختہ نے منڈیر سے ہی اندر کی راہ لی۔میں  اندر دوست کو اس صورتحال سے مطلع کرنے کے لیے کمرے میں  جانے ہی لگا تھا کہ اچانک ایک گھوڑا سرپَٹ دوڑتا ہوا اندر داخل ہوا....وہ گدھے کا بڑا بھائی لگ رہا تھا....میں  نے کمرے کی جانب قدم بڑھائے تو وہ سب میرے پیچھے ہولیے،گویا وہ سب بھی ڈرائنگ روم میں  تشریف رکھنے کے ارادے سے آرہے تھے....گبھراہٹ کے عالم میں  مجھے وہ حکایت یاد آئی جس میں  پہلے بدو خیمے میں  تھا اور اونٹ باہر اور اختتام میں  بدو خیمے سے باہر تھا جبکہ اونٹ اندر....حکایت کے اونٹ نے مجھے مہمان اونٹ کی یاد دلادی....میں  بوکھلا کر پلٹا اور گدھے سے ”منہ ماری“ کرتے کرتے بچا....”آپ یہاں  باہر ہی تشریف رکھیں ،میں  اپنے دوست کو بتا کر آرہا ہوں “....!
          میں  دوست کو بتا کر ہاتھوں  میں  دو کرسیاں  اُٹھا کر ”مہمانوں “کے خیر مقدم کے لیے بڑھا تو کیا دیکھتاہوں  کہ وہ سب لان کے گھاس پہ ہی ڈیرے ڈال چکے تھے....میں  نے کرسیاں  ان کے سامنے رکھتے ہوئے کہا”آپ نیچے کیوں  بیٹھ گئے ،اوپر کرسیوں  پر تشریف رکھیں “....جواباََ بلی نے پنجہ دکھا کر کہا”یہ سب تم انسانوں  کے چونچلے ہیں ،ہم ایسے ہی ٹھیک ہیں ،تم بیٹھو“....میں  ہڑ بڑا کر کرسی پہ بیٹھ گیا اور بے دلی کے باوجود منہ پر منافقانہ مسکراہٹ لاتے ہوئے پوچھا”فرمائیں  ،کیا لیں  گے آپ؟“....”ہم تمہاری کلاس لیں  گے“.... کوے کے اس دندان شکن جواب پہ میری گھراہٹ دو چند ہو گئی....”کک....کیا....کیا مطلب؟“میں  نے ہکلاتے ہوئے کہا.... ”مطلب یہ کہ ہم انسانوں  کے خلاف شکایت لے کر اور خاص کر تم جیسے نام نہاد دانشوروں  اور ادیبوں  سے خصوصی دو دو ہاتھ کرنے آئے ہیں “ یہ گھوڑا تھا،اس کے لہجے سے مجھے یقین ہوگیاکہ وہ کسی جنم میں  سیاست دان رہ چکا ہے ۔”مطلب کیا ہے تمہارا؟تم کہنا کیا چاہتے ہو؟“ میں  انجام سے بے خبر ہوکر چلایا ....”بھئی ،اِس قدر چیخنے کی کیا ضرورت ہے ؟ ہم امن کی علامت فاختہ کو اِسی وجہ سے ساتھ لائے ہیں  تاکہ کوئی بدمزگی نہ ہو“یہ رائے درویش کبوتر کی طرف سے تھی،وہ غالباََ میری دھاڑ سے کچھ زیادہ ہی ڈر گیا تھا۔میں  نے فاختہ کی طرف دیکھا ”اَمن کی علامت؟تم کون سے اَمن کی بات کرتے ہو؟اور فاختہ کی اَمن پسندی پہ تم نے احمد ندیم قاسمی ؒ کا وہ شعر نہیں  سنا کہ
اَمن کا خدا حافظ ،جب کہ نخل زیتوں  کا
شاخ شاخ بٹتا ہے بھوکی فاختاں  میں
فاختہ میری اِس بات پہ تِلملا کے بے طرح پھڑپھڑائی”اوّل تو یہ کہ جب بھوک لگی تو کوئی مذہب اورکوئی نظریہ نہیں  سوجھتا ،ایسے میں  یہ چیزیں  ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں ۔دوم یہ کہ ،مجھے یہ نام بلکہ لقب دینے والے تم انسان ہی ہو اور سوم یہ کہ ،اب تک یہ شعر میری نظروں  سے نہیں  گزرا ،سو، جب تک میں  اسے پڑھ نہ لوں ،مجھے اَمن کی علامت ہی سمجھا ،پڑھا ،لکھا اور پکارا جائے“اِس بات پہ طوطا جھوم جھوم کر ”فاختہ بی....زندہ باد“ کے نعرے لگانے لگا۔ میں  نے کھسیانہ ہو کر موضوع ہی بدل دیا”آپ سب اپنے آنے کامقصد بیان کریں “.... کتا گویا ہوا”مقصد تو سیدھا اورصاف ہے کہ تم جانور ،معاف کر نا میرا مطلب ہے کہ تم انسانوں  نے اپنے محاوروں  میں  ہمارا بے دریغ استعمال اوراستحصال کیا ہے “....”مثلاََ؟؟؟“میں  نے پوچھا....”مثلاََ ....!!!؟“ کوا فوراََ گنگنایا لیکن پھر منہ پھیر کر دوسری طرف دیکھنے لگا،غالباََ اس نے ہوم ورک پورا نہیں  کیا تھا....!
مثلاََ....گدھے سے سر سے سینگوں  کی طرح غائب ہونا.... جبکہ میرے تو سینگ ہوتے ہی نہیں “گدھا بولا....”گدھے ہونا اِسی لیے نہیں  ہوتے“....خلافِ توقع گدھے نے پلک جھپکنے میں  ہی میری بات سمجھ لی اور آنکھیں  نکالنے لگا....تب مجھ پہ یہ عقدہ کھلا کہ وہ کوئی عام گدھا نہیں  بلکہ امریکہ کہ ریپبلکن پارٹی کا گدھا تھا....!”مثلاََ.... میری والدہ محترمہ پر جو کہا ہے کہ....بکرے کی ماں  کب تک خیر منائے گی“یہ بکرا تھا ،جو خاصہ جذباتی لگ رہا تھا،میں  نے اس کی بات کا جواب دینا مناسب نہ سمجھا....”جیسے ....جس کی لاٹھی ،اُس کی بھینس“ یہ بھینس محترمہ تھیں ،جن کے بارے میں  معلوم ہوا کہ وہ ایک NGOچلاتی ہیں  اور ”آزادیءِنسواں  “کی بہت بڑی علمبردار ہیں .... ابھی بحث جاری ہی تھی کہ میرا دوست بھی لان میں  آنکلا ....جانوروں  کو یوں  ”بِٹّر بِٹّر“ باتیں کرتا دیکھ کر وہ حیران و پریشان سا کرسی پر ڈھیر ہوگیا....!
جانوروں  نے دلائل جاری رکھے ....”دھوبی کا کتا ،گھر کا نہ گھاٹ کا“کتا بھونکا....”بوڑھی گھوڑی ،لال لگام“گھوڑا ہنہنایا.... ”اونٹ کے منہ میں  زیرہ“اونٹ کے کروٹ بدلی جس کے نتیجے میں  میمنا اُس کے نیچے آتے آتے بچا....”کوا چلا ہنس کی چال ،اپنی بھول گیا“ کوا اچانک سبق یاد آجانے والے طالبعلم کی طرح خوش ہوا....”بلی کو چیچھڑوں  کے خواب.... بلی کے بھاگوں  چھینکا ٹوٹا....میری بلی اور مجھی کو میاں “بلی محترمہ کچھ زیادہ ہی غصے میں  تھیں  تبھی جب بولنے پہ آئیں  تو باقی سب کو چپ کرا دیا....!
آخر آپ سب چاہتے کیا ہیں ؟“میرا پیمانہءِصبر چھلک چکا تھا....”ہم یہ چاہتے ہیں  کہ تمام انسان شریف جانوروں  کی طرح ہمارا مطالبہ مانیں ....ان تمام ہتک آمیز محاوروں  کو زبان کی صفائی کے نام پر نکال باہر کریں ....اور آئندہ ایسا کوئی بھی محاورا بنانے سے قبل ہم سے تحریری اجازت لیں “....یہ میمنا تھا،مجھے لگا کہ وہ کوئی ترقی پسند ادیب بھی تھا....بہرحال ، وہ جو بھی تھا....میرا پارہ کافی ہائی ہو چکا تھا....اکیلے میں  بھلے میں  مجھے جانور کہہ لیتا لیکن اپنے دوست کی موجودگی میں  یہ سب کچھ ناقابلِ برداشت تھا۔ سو، میں نے ادب آداب کا چولہ اُتار کر ایک طرف رکھ دیا اورایک دفعہ پھر پوری قوت سے چلایا”آپ سب کی بکواس میں  نے سُن لی ہے ،سو، اب میری بھی سنو....“ میرا اتنا کہنا تھا کہ اونٹ ،کوا ،گدھا ،میمنا اور فاختہ قہقہہ مار کے ہنسے، نجانے کیوں ؟....بہر حال میں  نے بات جاری رکھی ”آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہاں  قریب ہی ایک تعلیمی ادارہ بھی ہے جس کے سربراہان کا یہ دعویٰ ہے وہ گدھوں  کو بھی انسان بناڈالتے ہیں ....اور تم سب کی اس گستاخی پہ میں  پولیس کو بھی مطلع کر سکتاہوں  اور وہاں  تو یہ حال ہے کہ پہلی چھترول کے بعد ہی تم سب نے چیخ چیخ کر اقرار کرنا ہے کہ تم جانور نہیں  بلکہ جدی پشتی انسان ہو“....میری بات سنتے ہی سب سے پہلے گدھا ”نہیں ....ں ں ں “کہہ کر بھاگا .... پھر یکے بعد دیگرے تمام جانوروں  کے اُس کی پیروی کی،چند لمحے کے لیے ایک ”مِنی تھیٹر“ کا سا ماحول بن گیا....میں  نے پیچھے سے انہیں  پکار کر کہا”انسانوں  کو باربار جانور کہنے والوں میں  خود کو بھی انسان کہلوانے کا حوصلہ ہونا چاہیے“....میں  طعنہ مار کر پلٹا تو میرا دوست کرسی پہ اوندھے منہ پڑا تھا....باربار کانوں  کو ہاتھ لگا تھا اور بڑبڑاتا تھاکہ”جانور بولنے لگے ہیں ....یہ سب قیامت کی نشانیاں  ہیں ....قیامت کی“....!



٭  ٭  ٭

Monday, 1 June 2015

کردار سازی

”چلوبھئی چلو،سارے لوگ سیمینار ہال میں  چلو.... ! چلو،چلو....!ہم سب نے چونک کر پیچھے دیکھا ،سامنے پرنسپل کھڑے تھے،وہ ہمیں  بھیڑوں کی ہانکنے لگے۔دراصل ،اصل وقوعہ کچھ یوں  ہے کہ یہ مورخہ 4دسمبر کی ایک سہانی صبح تھی ۔دوستوں  کے ہمراہ میں  شعبہ انجنیئرنگ میں  داخل ہوا تو پہلی کلاس کا وقت ختم ہوچکا تھا۔کلاس فیلو،جو کلاس سے باہر نکل رہے تھے ،ان سے معلوم ہوا کہ مزیدکوئی کلاس نہیں  ہوگی کیونکہ سیمینار ہال میں کچھ دیر بعد انسدادِ کرپشن پہ ایک سیمینار منعقد ہورہا ہے۔ہم یہ ”خوش خبری “ سن کر پلٹا ہی چاہتے تھے کہ پرنسپل صاحب نازل ہو گئے اور ہم سب کو ”ہنکا “ کر سیمینار ہال میں  لے گئے اور مزے کی بات یہ کہ بعد میں  اپنی تقریر کرتے ہوئے ہماری ”فرمانبرداری“کی یوں  ”داد “ دی کہ کہنے لگے :”یہ سب آپ کے والدین کی اچھی تربیت کا ہی اثر ہے کہ آپ لوگ یہاں  ہیں “۔
  سیمینار ہال میں  پہنچے تو معلوم ہواکہ بین الاقوامی ہفتہءِ انسدادِ کرپشن (جو کہ 3سے 9دسمبر تک منایا جاتا ہے)کے سلسلے میں ”مستقبل کی تعمیر کے لیے نوجوان نسل کی کردار سازی (Character building of youth for future building)کے عنوان سے سیمینار منعقد کیاجارہا ہے۔(انسدادِکرپشن ڈے 9دسمبر کو منا یا جاتا ہے،اس کی ابتداء2003ءمیں  ہوئی جب میکسیکو ،امریکہ میں  انسدادِ کرپشن ڈے منانے کی ایک قرار داد پیش کی گئی ،پاکستان ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں  نے 9دسمبر 2003ءکو ہی اس پہ دستخط کر دیئے تھے)۔سیمینار ہال میں  بیٹھے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ نیب (NAB, National Accountability Burro) کے ڈپٹی ڈائریکٹر،ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ سوشل سائنسز کے سربراہ(Dean)جناب محترم ڈاکٹر ذکریا ذاکر صاحب بھی آ موجود ہوئے۔
  رسم ِ دین و دنیا نبھاتے ہوئے تقریب کا باقاعدہ آغازتلاوتِ قرآنِ کریم اور نعت ِ رسولِ مکرمﷺسے کیاگیا۔ہیلے کالج پنجاب یونیورسٹی کے ایک مقرر نے مسلمان نوجوانو ں  کے تدبّر اور عزم کی نشاندہی کی ۔اس کے بعد NABڈپٹی ڈائریکٹر نے حاضرین کو اس قومی ادارے کے کام کرنے کے طریقہءِ کارکے بارے میں  آگاہ کیا، ان کے مطابق NABانسدادِ کرپشن کے لیے تین طرح کے اقدامات بروئے کار لارہا ہے:

1-   آگاہی(Awareness)
2-   انسداد/روک تھام(Prevention)
3-   نفاذ(Enforcement)
  انہوں  نے دورانِ گفتگو یہ بھی بتایا کہ یہ اداراہ 1999ءمیں  وجود میں  آیا اور اب تک اس میں  2,36,000درخواستیں  رپورٹ ہوئیں  جن میں  سے 4720پہ عمل درآمد ہوا ،اور ان کے نتیجے میں  اڑھائی سو ارب روپے کی وصولی( Recovery)ہوئی۔
 ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے بھی کچھ دیر نوجوانوں  کی تعریف کرکے ہمارے سینے پھلائے اور اجازت چاہی(جوہم نے بخوشی دے دی)۔آخرمیں  سماجی سائنسدان(Social Scientist)،(سماجی سائنسدان وہ ہوتا ہے جو معاشرے کا رویہ بدلتاہے،
A social scientist who changes the behavior of the society)) ڈاکٹر ذکریا ذاکر صاحب نے مائیک سنبھالااور انسان کی نفسیاتی باریک بینیوں اورسماجی پیچیدگیوں سے ہمیں آگاہ کیا۔انہوں  نے اپنی گفتگو کو تین حصوں  میں  بانٹا۔سب سے پہلے کردار سازی پہ جو اب تک کی تحقیق ہوچکی ہے اس کا نچوڑ ہمارے سامنے رکھ دیا کہ Normal personality creates good character(نارمل شخصیت اچھا کردار تشکیل دیتی ہے)انہوں  نے مزید بتایاکہ گزشتہ دو سو سال سے معاشرے پہ صرف تنقید کرنے والے کوئی تبدیلی نہیں  لاسکے ۔انہوں  نے کردارسازی کے عام مستعمل منفی طریقے بتائے جو کردار سازی کے بجائے کردار کشی کا کام کرتے ہیں ،آپ بھی دیکھئے:
٭صرف تقریر جھاڑنے سے کچھ نہیں  ہوتا،تقریریں  جھاڑنے سے آپ اچھے مقرر توکہلا سکتے ہیں لیکن معاشرے میں  مثبت کردار سازی کاعمل پروان نہیں  چڑھ پائے گا۔
٭ڈرا دھمکا کر لوگوں  کے روّیے کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرنا بھی بے سُود ہے کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ ہرمسلّط شدہ بات کا توڑ نکال لیتا ہے ،ڈاکٹر صاحب نے بتا یا کہ محض سزاں  سے کرپشن ختم کرنے میں  کسی حد تک مدد تو مل سکتی ہے لیکن ایسے یہ مکمل طور پہ ختم ہونے والی نہیں ہے،یہ مرض جڑ سے صرف سزاں  کے خوف سے ختم نہیں  کیا جاسکتا کیونکہ ”متاثرہ“شخص قانونی پیچ و خم کو اپنے بچاکے لیے استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے اور سزاں  کو غیر موثر کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے ۔
٭لوگو ں  اور بالخصوص نوجوانوں  کی آزادی میں  رکاوٹ بننا یا ان میں  دباکے زیرِ اثر کردار سازی پروان چڑھانے کی کوشش بھی فضول ہے کیونک انسانی ذہن خوشدلی سے صرف وہی چیز قبول کرتا ہے ،صرف اسی بات پہ عمل کرتا ہے جو اس پہ مسلّط نہ کی گئی ہو بلکہ اس نے آزادی سے اور اپنی مرضی سے اس کا انتخاب کیا ہو۔
  آخر میں  ڈاکٹر ذکریاذاکر صاحب نے کردار سازی کے صحیح طریقوں  پہ بھی روشنی ڈالی :
٭معاشرے میں  نوجوانوں  کی بھرپور شمولیت ہو تاکہ نوجوان اس معاشرے کو اپنا معاشرہ سمجھیں ،ان میں  معاشرے کے حوالے سے احساسِ ذمہ داری آئے(They feel sense of ownership of society)۔وہ اس معاشرے کومحض بزرگوں  کا دقیانوسی معاشرہ خیال نہ کریں ۔
٭نوجوانوں  کی ایسے تربیت کی جائے کہ وہ اس معاشرے کو اپنا سمجھیں ، وہ اس معاشرے سے وابستہ ہر چیز کو اپنا جانیں ،وہ یہ جانیں  کہ ہم یہاں  جو بوئیں  گے ،کل کو وہی کاٹیں  گے چنانچہ ہر شخص اپنا احتساب خود کرے ۔ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ سڑک پہ ہونے والے حادثے (Road Accidents)کبھی خود بخود نہیں  ہوتے ،ان کی ہمیشہ تین وجوہات ہوتی ہیں ۔

1-   سڑک خراب ہوگی ،جو کسی ٹھیکیدار /معمار کی غلطی/کرپشن ہوگی۔
2-   گاڑی خراب ہوگی جو گاڑی کے مالک /مکینک کی غلطی ہوگی۔
3-   ڈرائیورکی غلطی ہو گی۔
٭انہوں  نے کہا کہ ہمیں  خود میں  یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ عوام کا پیسہ ہمارا ہی پیسہ ہے ،وہ ہمِیں  سے تعلق رکھتا ہے(Public money belongs to us)اور دوسری بات یہ کہ ہم سچ بولنا سیکھیں  ،انہوں  نے انگریزی میں  ایک لافانی جملہ کہا:
Untruthful behavior is linked with corruption
  تقریرکے آخر میں  انہوں  نے ہمیں  نصیحت کی کہ "آیئے!ہم ایک ایسامعاشرہ بنائیں ،جہاں  کردار خود بخود بنے ،ہر کوئی ایماندار بننا چاہے،بے ایمانی کرنے اور بے ایمانی کرنے کا کو ئی سوچے تک نہیں "۔

Sunday, 31 May 2015

چاک گریباں

چاک گریباں

مجھے باقی لکھاریوں  کا تو علم نہیں  لیکن میرے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بعض دفعہ تو موضوعات راہ چلتے مل جاتے ہیں  اور بعض اوقات لکھنے بیٹھو تو مضامین ذہن سے ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔بہر حال یہ موضوع بھی انہی موضوعات میں  سے ایک تھا جو اچانک سے میرے ذہن میں  عود کر آیا تھا۔مشرقی پاکستان کے آخری سیکریٹری وزارتِ تعلیم اور ممتاز ادیب مسعود مفتی کا16دسمبر 1971ءکے سقوطِ ڈھاکہ کے سے خون آشام پسِ منظر میں  لکھا گیا ایک مضمون بعنوان ”ایک اور چہرہ“میرے زیرمطالعہ تھا۔
  غلطی زندگی میں  کون نہیں  کرتا،اپنے اپنے انداز اور قد کی غلطی ،چھوٹے کی چھوٹی اور بڑے کی بڑی غلطی۔چھوٹی غلطیو ں  پر معافی بھی مل جایا کرتی ہے اور اگر غلطی قابلِ معافی نہ ہو تو سزا بھی زیادہ بڑی نہیں  ہوتی لیکن جوں  جوں  قد بڑاہوتا جائے ،غلطی کا امکان کم اور کی جانے والی غلطیوں  کا قد بھی بڑا ہوتا جاتا ہے،بڑی غلطی کا خمیازہ بھی بڑا ہی چکانا پڑتا ہے ۔بعض اوقات بہت سی شخصی غلطیاں  مل کر اجتماعی گناہوں  کا روپ دھار لیتی ہیں ،ایسا بھی ہوجایا کرتا ہے کہ لمحوں کی خطائیں  ،صدیوں  پر بھاری پڑ جائیں ۔
  بحثیتِ قوم1947ءمیں  غلامی کے طوق اپنی گردن سے اتار کرہم آ زاد وطن کے شہری بنے۔یہ اس وقت کی آبادی اور رقبے کے لحاظ سے دنیائے اسلام کی سب سے بڑی مملکت تھی لیکن ابھی 24برس ہی بیتے تھے کہ ہماری قوم کی یگانگت،یکجہتی اور نظریہئِ پاکستان کے ستونوں  پہ کھڑی عمارت نہ صرف کھوکھلی اور شکستہ ہوگئی بلکہ جب بیرونی دشمن نے حملہ کیا تو وہ دھڑام سے زمین بوس ہوگئی۔محافظوں  کو حملہ آوروں  کا استقبال کر کے ان کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔پاکستان بننے سے بٹنے تک کا یہ سفرمحض اس ایک نسل کے جوان ہونے تک کا تھاجو قیامِ پاکستان کے وقت پیدا ہی ہوئی تھی۔ یہ سوال گزشتہ41برس سے جواب کامتمنی ہے کہ ان 24برسوں  میں  ایسا کیا ہواکہ اپنے پرائے بن گئے،حالات اس نہج پر کیسے اورکیوں  پہنچے کہ دوست دشمن،محب وطن غدار اور حبیب رقیب بن گئے۔ یہ سانحہ کیونکر ہو کہ ہمارے خاکی پوشوں  کی بے سروسامانی کے باوجود کی گئیں وفائیں  بارآور نہ ہوسکیں  ۔وہ کیسے گل تھے جن سے زہر ہی زہر سا پھوٹتا رہا،جو باغبانوں  تک کو لہولہان کر گیا۔
   بہت سے افراد نے اپنی بساط کے مطابق بہت کچھ لکھا۔حمودالرحمان نامی کمیشن بھی بنایاگیا۔سیاست دانوں  کی کارستانیاں  اور فوج کی بے سر وسامانیاں منظرِ عام پر آئیں لیکن اس سب کے باوجود کوئی اپنی غلطی تسلیم کرنے پہ تیار نہ ہوا۔شاید ہم ایسے ہی کم ظرف ہیں  کہ وقت گزرنے ،طوفان ٹوٹ چکنے کے بعد بھی ازالہ تو درکنار،اپنی اپنی غلطی ماننے سے ہی گریزاں ہیں ۔مجھے تو یوں  لگتا ہے کہ ہم جیسے کم ظرف اس قابل ہی نہ تھے کہ اس اعزاز کے حق دار رہتے،بنگال کے پٹ سن کے ریشوں ،پنجاب کے گندم کے خوشوں ،وادیئِ سندھ کے کماداور مکئی ،جوار کے سِٹّوں  اور بلوچستان و سرحد کے باغات کے پھلوں  والی سر زمین یکجا رہتی۔ہاں !یہ ہماری کم ظرفی بھی تو تھی جس نے ہمارے وطن کو دولخت کر دیا۔ہمیں  پاکستانی مسلمان بننے کے بجائے بنگالی،بلوچی،پٹھان ،سندھی اور پنجابی بنادیا۔
   مسعود مفتی صاحب نے یہ مضمون 1977ءمیں  تحریر کیا تھا۔انہوں  نے اپنے اعلیٰ ظرف ہونے کاثبوت دیتے ہوئے اپنی خطاں  کی پردہ پوشی نہیں  کی ،اپنی نسل کے ہاتھوں  سر زد ہونے والی غلطیوں  کو انہوں  نے زدِ قلم کیا ہے۔انہوں  نے کیاکیا کہا تھا ،آیئے!انہی کی زبانی سنتے ہیں :
”1947ءمیں  دو قوموں  کے ساتھ دو رویوّں  نے بھی جنم لیا۔ ایک طرف پاکستان میں  کامرانی کے بعد کاہلی ابھری ،تو دوسری طرف ہندوستان میں  ہار کے بعد ہمت ابھری۔ہم 1940ءمیں  مقصدشناس بنے ۔1947ءمیں  مقصد براری ہوئی توہم نے سامانِ حرب اتار کر رکھ دیا اور سستاتے ہوئے سو گئے۔ہندو 1940ءسے بہت پہلے مقصد شناس بن چکے تھے۔1947ءمیں  انہیں اپنے مقصد میں  ناکامی ہوئی تو ان کی ساری سوچیں  اور کوششیں  اسی مقصد کے تعاقب میں  لگ گئیں ۔ہماری مقصد فراموشی اور ان کی مقصدی لگن دو مختلف رویّے تھے۔مشرقی پاکستان کی نئی نسل ان دو رویّوں  کا لازمی نتیجہ تھی۔جب ہم نے اپنے بچوں  کی انگلی چھوڑ دی تو دوسروں  نے تھام لی اور قدم قدم اپنے ساتھ چلانے لگے، اور بالآخر اُدھر لے گئے جدھر وہ لے جانا چاہتے تھے۔
  ان دو رویّوں  نے ہماری نسل کو کس طرح نئے انداز میں  ڈھالا؟اس کی داستان طویل ہے،مگر دو لفظوں  میں  بیان ہوسکتی ہے:”نظامِ تعلیم“۔نظامِ تعلیم ایک خاص رُخ میں  چلنے والی ہَوا ہے، جس کے رُخ کا تعیّن ہر قوم کو خودکرنا پڑتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے تساہل کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں  یہ ہَوا24برس تک پاکستان کے مخالف رُخ میں  چلتی رہی۔ہَوا کے اس رُخ متعیّن کرنے میں  سب سے بڑا حصہ ہندو اساتدہ کا تھا۔اس کے بعد ان عناصر کا جو یا تو ہندوستان کے ایجنٹ تھے یا اپنے طور پر نظریہئِ پاکستان میں  یقین نہ رکھتے تھے۔یہ عناصر بڑے موثر طریقے سے پالیسی مرتب کرنے والے اداروں  میں  دخیل تھے۔
  قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مارچ 1971ءکی فوجی کاروائی کے بعد تعلیمی ادارے دو تین دن ماہ بند رہے اور جب رفتہ رفتہ کھلنے لگے تومسلمان اساتذہ کی بہت بڑی تعداد غیر حاضر تھی ،مگر ہندو اساتذہ کم وبیش سبھی حاضر ہوگئے تھے اور بڑی تندہی سے اپنے مذموم کاروبار میں  مصروف رہے۔اساتذہ کے علاوہ نصابی کتب بھی ہَوا کے رُخ کو ادھر ہی چلا رہی تھیں ،میٹرک کی انگریزی کی کتاب میں گرامر کی تراکیب کی تشریح کے لیے جو فقرے بنائے جاتے تھے ان میں  زیادہ تر ہندوں  کے نام تھے اور ذکر بھی ہندو رسومات یا کلچر کاہوتاتھا۔ تاریخ کی ایک درسی کتاب میں سب سے نمایاں تصاویر پرتھوی راج اور رانا سانگا کی تھیں ،اکبرِ اعظم کے سیکولرازم کی تعریف تھی مگر کسی مسلمان بادشاہ کی تصویر نہ تھی۔
  نئی نسل پر یہ الزام ہے کہ اس نے وطن سے نفرت کی اور وطن کے دشمن سے محبت کی ۔اس نے دو قومی نظریے سے نفرت کی جس پر پاکستان کی عمارت کھڑی ہے۔اس نے ان حالات کو فراموش کردیا جن کی وجہ سے پاکستان کاوجود ناگزیر تھا۔اس نے اپنی تواریخ کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے سے انکار کر دیا۔اس نے اپنا ماضی اپنی آنکھوں  سے نہیں  دیکھا بلکہ اپنے کانوں  اور غیروں  کی زبانوں  سے پرکھا۔اس کا یقین دھندلا اور عمل اُلٹا ہے۔نئی نسل پر الزام بیشک درست ہے مگریہ ملزم نہیں ہے۔اصل ملزم وہ نسل ہے جس پر یہ الزام نہیں  لگایا جاتایعنی بزرگ نسل جس نے پاکستان حاصل کیا تھااور پھر بڑی دیدہ دلیری سے ان نعروں  کو تار تار کرنے لگے ،جو سفر کے دوران اس کے پرچم پر لکھے تھے۔ان کے بجائے تواریخ کی مردہ قوموں  کے کفن کی دھجیاں  اٹھا کر سینے پر سجانے لگے۔نئے عہد توڑ ڈالے اور کہنہ فرسودگیوں  کو نئے زاویے سمجھ کر اپنا لیا۔
  منزل پر پہنچ کر نئی نسل کو تربیت دینے کے بجائے اس کے سامنے روح و جسم کی سٹرپ ٹیز(Strip-Tease)کرنے لگے۔ سرسید، علی برادران،سیّد عطااﷲ شاہ بخاریؒ،علامہ عنایت اﷲ مشرقی،علامہ محمد اقبالؒ اور قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کی دی ہوئی پوشاکیں نوچ کر اتارنے لگے اور بالآخراندر سے اٹھارویں اور انیسویں صدی کا وہ گھن زدہ زوال پذیرکردار نکال پیش کیا،جس نے ہند کی اسلامی سلطنت کوفرنگی کے ہاتھوں  بیچ ڈالا تھا۔بزرگ نسل نے نئی نسل کو اگر کچھ بتایا تو صرف یہ کہ ’غنڈہ ہیرو ہے،شرافت گناہ ہے،دیانت داری بزدلی ہے،موقع پرستی عقل مندی ہے،بے اصولی اصل ہے،بااصولی نقل ہے،خوشامد عبادت ہے،اخلاقی جراءت حماقت ہے،خود احتسابی بغاوت ہے اور سیاست رشوت ہے‘جب سوچ کاہر دھارااُلٹا بہنے لگا تو نظامِ تعلیم کی کجی بھی نظر نہ آئی اور اس کے نتیجے میں  نئی نسل کے وطنیت کے تصور کو بھی گھن لگ گیا۔پاکستان سے غداری اسی نسل نے کی ہے جس نے پاکستان بنایا تھامعماروں کی غداری بدترین غداری ہوتی ہے۔ایسی عمارت کے مکین ہمیشہ ہی چھت گرنے کے اندیشوں میں  بھٹکتے رہتے ہیں ۔“
  مسعود مفتی صاحب نے جو نقشہ کھینچا ہے وہ 1947ءسے 1971ءتک کا ہے لیکن آپ آج کے حالات کا جائزہ لیں توخاکم بدہن کیا ایسا نہیں  لگتا کہ ہم ایک اور سقوط کی طرف بڑھ رہے ہیں کہ گردوپیش ،ہر سُو وہی فضاہے جو ایک طوفان کے آنے سے پہلے کی ہوتی ہے۔وہ طوفان ،جس کے بعد پھر” کمیشن “بنتے ہیں  اور حقائق چھپائے جاتے ہیں ۔

Saturday, 30 May 2015

”آئینوں “کی حمایت میں

”آئینوں “کی حمایت میں

جاوید چودھری میرے پسندیدہ ترین لکھاریوں  میں  سے ایک ہیں ۔وہ ایک قومی اخبار میں  کالم نگار ہیں ۔بنیادی طور پر لالہ موسیٰ ایک پسماندہ گاں  سے تعلق رکھتے ہیں  لیکن اب ان کا شمار پاکستان کے ان چند ایک گِنے چُنے لوگوں  میں  ہوتاہے جو ابن الوقتوں کی آنکھوں  میں  آنکھیں  ڈال کر سچ کہہ بھی سکتے ہیں  اور ببانگ ِ دہل لکھ بھی سکتے ہیں ۔”زیرو پوائنٹ“ کے عنوان سے ان کی چھ کتب بھی شائع ہوچکی ہیں  جو ان کے مختلف اخبارات میں  لکھے کالمز کا مجموعہ ہیں ۔انہیں  سندھ کے سابق گورنر اور ادارہ طبِ ہمدرد کے بانی حکیم محمد سعید شہیدؒ کی شہادت پہ ایک کالم بعنوان"مدینے کاشہید" لکھنے پہ بہترین کالم نگار کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ان کی ایک اور کتاب "گئے دِنوں  کے سورج"صحافت میں  ان کے ابتدائی دنوں  کی سرگرمیوں  کی عکاس ہے۔ اس میں  چند بڑے لوگو ں  سے ملاقاتوں  کے احوال کا تذکرہ ہے اور کچھ آغاز کے دنوں  کے فیچرز بھی ہیں ۔یہ کتاب تاریخ ،واقعات ،معلومات اور منفرد اندازِ تحریر کی حامل ہے۔اس میں  اعلیٰ درجے کی ادبی چاشنی بھی ہے اور بیان کردہ معلومات ،تاریخ اور معلومات میں  ایساحسین امتزاج، ایک ایساعمدہ ربط ہے جوقاری کو تادیر اپنے حصار میں  لیے رکھتاہے۔وہ ایک معروف نجی چینل کے لیے ”کل تک “کے عنوان سے ایک ”ٹاک شو“(Talk Show) کی میزبانی بھی کرتے ہیں ۔مختلف کالجوں  اور یونیورسٹیوں  میں  مختلف موضوعات پہ لیکچر دینے کے لیے بھی بلائے جاتے ہیں ۔فی الوقت وہ پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے لکھاری ہیں ۔
  جاوید چودھری حقائق پسندانہ شاعری کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بھی بنتے ہیں ۔وہ کئی مرتبہ اپنے کالمز میں  اس بات کا اظہار کر چکے ہیں  کہ انہیں مختلف طبقہ ہائے زندگی کی طرف سے سخت ردّ ِ عمل اور شدید تنقیدکا نشانہ بنایا جاتا ہے۔وہ لوگوں  کے اس رویے سے کافی جز بز ہوتے ہیں ۔اگر کوئی کالم ،اس میں  لکھی گئی کوئی کڑوی سچائی کسی ”صاحب کی طبع نازک پہ گراں  گزرے ،کچھ حقائق کسی کواپنی اناء،اپنے ذاتی مفاد کے منافی لگیں تو وہ محض تنقید پہ اکتفاءنہیں  کرتا بلکہ کئی غیر اخلاقی باتیں  کو تنقید کا حصہ بنا لیتاہے۔آج کل ایسا بھی ہوتا ہے کہ موبائل ایس۔ایم۔ایس،فیس بُک اور سماجی رابطے کی کئی دیگر ویب سائٹس(Websites) پہ بھی ”ناپسندیدہ“ افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کے متعلق جھوٹا پراپیگنڈہ کر کے ان کی شہرت اور ساکھ کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔جاوید چودھری صاحب کو بھی کئی اندازمیں حق گوئی سے باز رکھنے کی کوشش کی جا چکی ہے۔وہ اپنے کئی کالمز میں  بھی اس با ت کا اظہار کرچکے ہیں  اور ایک دفعہ تو انہیں  لوگوں  کے اس رویے سے تنگ آکر یہاں  تک کہنا پڑا کہ میں کالم نگاری چھوڑ کر کوئی دوسرا کاروبار شروع کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں  جس میں  لوگوں  کی زہر میں  بجھی باتوں  کے تیروں  کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
  بات محض تنقیدکی ہو تو کوئی بھی تخلیق کاراسے بُرا نہیں گردانتا کہ کسی بھی تخلیق کے معیار کااس سے متعلق مثبت یا منفی تنقید دیکھ کر ہی کیا جاتا ہے لیکن چونکہ ہمارے ہاں  کا باوا آدم ہی نرالا ہے اسی لیے یہاں  صرف غیر اخلاقی تنقید پر بھی اکتفاءنہیں  کیا جاتابلکہ اکثر اوقات تخلیق کار کو”سبق سکھانے“کے لیے قانون بھی ہاتھ میں  لینے سے گریز نہیں  کیا جاتااور سچ کہنے ،لکھنے والوں  کو صفحہءِ ہستی سے ہی مٹا دیا جاتا ہے۔پاکستان میں  حالیہ چند برسوں  میں  سینکڑوں  صحافیوں  اور اہلِ علم ودانش کو قتل کر دیا گیاہے۔سچ کی کڑواہٹ کو برداشت نہ کر سکنے والوں نے حق کا وہ سرچشمہ ،وہ منبع ہی ختم کر دیا ،سچ کے عَلم سے گھبرا کراس عَلم کو بلند کرنے والے ہاتھ ہی کاٹ دیئے ۔یہاں  دعاں  کے لیے اُٹھے ہاتھ کاٹنے کی رسمیں  عام ہیں :
بلند ہاتھوں  میں  زنجیر ڈال دیتے ہیں
عجیب رسم چلی ہے ،دعا نہ مانگے کوئی
حق و باطل کی بات ہو تو ان کی جنگ تو ازل سے جاری وساری ہے۔حق کی صفوں  میں  منصور الحق جیسے دیوانے ہیں  تو شر کے پاس ہلاکو اور چنگیز خان جیسے سپاہی۔کبھی حق کو مٹا دیا جاتا ہے اور کبھی ایسا کرتے کرتے باطل خود مٹ جا تا ہے،لیکن اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ حق پسِ زنداں  ہوتا ہے اور ظلم و جور ہر طرف راج کر رہاہوتا ہے،حق کے نصیب میں  شاید صرف ”آخری فتح“ ہی ہوتی ہے۔فی زمانہ تو یہی ہوتا دیکھا گیاہے کہ جس کسی نے بھی باطل کی مخالفت میں  زبان کھولی ،سچ کا پرچم تھام کر اُسے لہرانے کا عز م اور حوصلہ کیااسے نشانِ عبرت بنادیا گیااور ہمارے وطنِ عزیز میں  تویہ ”رسم“ کچھ زیادہ ہی پابندی سے نبھائی جاتی ہے۔برسوں  پہلے کراچی کے فٹ پاتھوں  پہ علامہ حسن ترابی، مفتی شامزئی کا خون بہایا جاتا ہے،کراچی ہی کی ایک سڑک پہ گورنر سندھ حکیم محمد سعید ؒ کو سرِ عام گولیوں  سے چھلنی کردیا جاتا ہے،کچھ برس قبل محسنِ قوم وملت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کے گھر پہ ہی طویل عرصے کے لیے نظر بند کر دیا جاتا ہے،چند ہفتے قبل شاعر ڈاکٹر شبیہ الحسن کو لاہور کی ایک سڑک پراندھی گولی کا شکار بنادیاجاتا ہے۔کوئٹہ میں  (اور حالیہ پنجگور میں  بھی) صحافیوں  کواپنے مفاد کی راہ میں  رکاوٹ بننے پہ راہی ملک ِعدم کر دیا جاتاہے،دن دیہاڑے مینگورہ(سوات ) میں  ملالہ یوسف زئی پہ سرِ عام گولیوں  کی بارش کر دی جاتی ہے!حق و باطل کی جنگ میں  یہ تمام داستانیں ، قربانیوں  کے یہ قصے نئے نہیں  ہیں کیونکہ ازل سے ہی حق کو نمو کے لیے لہو کی ضرورت رہی ہے،سچائی کے یہ دیئے کسی تیل سے نہیں  بلکہ دیوانوں  کے لہوسے روشن ہوتے ہیں  اور پھر حق کے یہ دیئے حق پرستوں  کے سروں  کی فصیل پہ ہی سجتے ہیں ۔
  ان تمام واقعات میں  تازہ اضافہ معروف کالم نگار حامد میرکو نشانہ بنانے کی بزدلانہ کوشش ہے ،اسلام آباد میں  ان کی گاڑی میں کسی نے بم رکھ دیا،ان کی زندگی باقی تھی ،سو، وقت پہ پتہ چل جانے پربم ڈسپوز(Dispose) کر دیا گیایوں  وہ محفوظ رہے۔ اس واقعے سے چند دن قبل جمعیت علمائے اسلام کے راہنمامحترم قاضی حسین احمد کو بھی خود کش حملے کے ذریعے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی لیکن خوش قسمتی سے وہ بھی محفوظ رہے۔
  اب یہ سب ہمیں  ہی سوچنا ہے کہ وہ کون سے چہرے ہیں  جو اپنے مفاد کی راہ میں  آنے والی ہر رکاوٹ ،ہر سچائی کو ختم کر دینے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں ،یہ کون لوگ ہیں  جو اسلام کے نام پہ دہشت گردی اور قتل وغارت کر رہے ہیں ۔ یہ کیسے مسلمان ہیں  جو اپنے جیسے مسلمانوں  کو ہی ختم کر کے اپنا اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں ۔یہ کیسے اسلام کی ترویج کررہے ہیں  اور کیسے اسلام کا نفاذ چاہتے ہیں  کہ اس کے لیے انہیں جمعیت علمائے اسلام کے راہنما قاضی حسین احمد جیسے راہنما پہ قاتلانہ حملہ کرنا پڑتا ہے۔یہ لوگ میر جعفرو میر صاد ق کے چولے میں  ملبوس ہمِیں  میں  موجود ہیں ۔تخلیق کار کسی بھی ملک کااثاثہ ہوتے ہیں لیکن ہم میں  موجو د یہ غدار ہاتھ ان اثاثوں ،انہی تاریخ ساز ہستیوں  کو ختم کرنے کے دَرپے ہیں ۔جہاں تخلیق کار نہ رہیں تو معاشرہ مہذب کہلانے کا حق دار نہیں  رہتا۔ایک تخلیق کار کی موت ،ایک پورے عہد کی موت ہوتی ہے۔ہم میں چھپے غداروں  کے ہاتھ ،جو عِلم ،فن اورتخلیق کے عَلم کودفن کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ،ہمیں  وہ ہاتھ کاٹنے ہوں  گے۔ہمیں اپنے عہد کو موت سے بچانا ہوگا۔
٭٭٭

Friday, 29 May 2015

کامیابی....خود اعتمادی

کامیابی....خود اعتمادی

شنید ہے کہ ایک حضرت کو تقریر کرنے کا بے حد شوق چرایالیکن اپنے اس شوق کو پایہء ِتکمیل تک پہنچانے کی کوئی صورت انہیں نظر نہ آتی تھی کہ پیشتر اس کے کبھی کوئی ایسا عمل ان سے سر زد نہ ہوا تھامگر کرتے تو کیا کہ دل کے ہاتھوں مجبور تھے بالآخر انہوں نے پنجابی کے اس محاورے ”شوق دا کوئی مُل نئیں“ (شوق کی کوئی قیمت نہیں)پر عمل کرتے ہوئے ایک تقریری مقابلے میں اپنا نام لکھوادیا۔نام لکھوانے کے بعد ذہن کے نہاں خانوں میں تقریر کی مشق شروع کردی،ان دنوں وہ اکثر گم سم پائے جاتے کیونکہ وہ ذہن اور تصور میں خود کو مقرر سمجھ بیٹھے تھے اور خیال ہی خیال میں حاضرین پر تقریریں جھاڑکر خوش ہوا کرتے تھے۔
  اُن کے حق میں یہ فلاسفی درست ثابت ہوئی کہ ”ہونی کو کوئی روک نہیں سکتا“،ہوا یہ کہ مقابلے کا دن آپہنچا۔موصوف تیار ہوکر ،خوب سج دھج کے تشریف لائے۔تحریر شدہ کوئی تقریر ساتھ لی اور نہ اس کی ضرورت سمجھی کہ وہ اپنے خیال میں خود کو ایک زبر دست مقرر گردانتے تھے ۔اب ہوا اُن کے ساتھ یہ ،کہ جب اپنا نام پکارے جانے پر سٹیج پہ پہنچے تو اپنی جانب لاتعداد حاضرین کو ”گھورتے “دیکھ کر ان کی سٹّی گم ہوگئی۔لڑکھڑاتے قدموں کو سنبھالتے ہوئے بمشکل ڈائس تک پہنچ تو گئے لیکن اب ان کے ذہنِ رسا سے الفاظ یوں غائب تھے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ان کے ساتھ بھی وہی صورتحال پیش آئی جو ابنِ انشاءکے ساتھ ”مرید پور کا قاضی “میں پیش آئی تھی۔بہر طور، انہوں نے اپنے حواس کو قابو میں رکھنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے مائیک کو ہاتھ سے ہِلا جُلا کر دیکھا اور اسے ”آن“پاکر واپس پلٹنے ہی لگے تھے کہ جھٹ سے انہیں یاد آیا کہ وہ یہاں تقریر کرنے آئے ہیں ،الیکٹریشن کا کام کرنے نہیں۔
  مزید حواس باختگی کے ساتھ انہوں نے ڈائس کو مضبوطی سے تھام لیا(دیکھنے والے اگر اب یہ گمان کرتے ہیں کہ انہوں نے ڈائس کو بھاگنے سے روکنے کے لیے تھاما تھا توہم کیا کر سکتے ہیں کہ ”جمہوریت“میں کوئی کچھ بھی کہہ سکتاہے)۔مزید کچھ لمحے گزرنے کے بعد انہیں خیال آیا کہ انہیں وہاں کچھ نہ کچھ بولنا بھی تھاکہ سامنے بیٹھے ،ان کو گھورتے ،لاتعدادسامعین ان کو ”مجسمہ “بنے دیکھنے میں قطعی دلچسپی نہ رکھتے تھے۔
  اب خدا خدا کرکے چند الفاظ ان کے ذہن میں آ ہی گئے۔انہوں نے ہڑ بڑا کر کہا:”حح حاحا ضرین!“(تمام یاد آئے الفاظ پھر کسی ”دعوت“پہ چلے گئے)وہ چند لمحے توقف کے بعد پھر گویا ہوئے:”حح .....حاضرین!حاضرین کرام!میں نےجو کچھ کہناتھاوہ مجھے معلوم تھایاخداکو لیکن اب وہ خداکوہی معلوم ہے!“اس کے بعد کیا حوادث پیش آئے،”تاریخ“ اس سے متعلق بالکل خاموش ہے البتہ مجھے یہ واقعہ ملا تو سوچا کہ کیوں نہ خود اعتمادی کے نفسیاتی پہلو پر کالم لکھا جائے(ایک ”اہم“وجہ یہ بھی تھی کہ کوئی ڈھنگ کا موضوع ہی نہیں سُوجھ رہا تھا)۔
 خود اعتمادی دراصل انسان کا خود پر اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کانام ہے۔خود اعتمادی کی پہلی سیڑھی علم ہے۔علم سے مراد کسی بھی طرح کا علم ہے،آپ نے اکثر مشاہدہ کیاہوگاکہ دیہاتوں کے اَن پڑھ لوگوں کو اگر کسی افسر کے سامنے بااَمرِمجبوری بھی جانا پڑے تو ان کی حالت کیا ہوتی ہے،ہفتہ قبل ہی صاحب سے ”ملاقات“کی تیاری شروع ہوجاتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی اُن سے موقع پر کئی لطیفے سرزد ہوجاتے ہیں۔اس مسئلے کانسخہ شیکشپئرنے یوں بتایاکہ
What is success? Know more than others, work more than others and expect less than others. “(کامیابی کیاہے ؟دوسروں سے زیادہ علم رکھنا،دوسروں سے زیادہ محنت کرنااور دوسروں سے توقعات کم سے کم وابستہ کرنا)۔مجھے شیکسپئر کے اس قول سے سو فیصدی اتفاق کرتاہوں کیونکہ خود اعتمادی ہی کامیابی کادوسرانام ہے۔
 خود اعتمادی کی دوسری سیڑھی ہر طرح کے لوگوں کے ساتھ بغیر کسی جھجھک اور ہچکچہاہٹ کے گفتگو کرنا ہے ،یہ سب سے اہم مرحلہ ہے کیونکہ آپ کے پاس علم ہو اور آپ اسے پھیلائیں نہیں،تویہ ایساہی ہے کہ جیسے رُکا ہوا پانی ،جو بہت جلد بدبودار ہوجاتاہے لہٰذا اپنی شخصیت کو پاکیزہ اور خوشبوداررکھنے کے لیے بھی دوسروں کے ساتھ بات چیت بہت ضروری ہے۔
  خود اعتمادی کو تیسری اور انتہائی سیڑھی ،بہترین منصوبہ بندی اور اس پر عمل کرنا ہے۔آپ جو بھی کام کرنا چاہتے ہوں ،جس بھی منزل کو پانا مقصود ہو،اس کے لیے پہلے باقاعدہ منصوبہ بندی کریں۔کتب، رسائل اور اخبارات سے مدد لیں،اساتذہ سے بھی مشورہ کریںااور دوستوں سے مختلف تجاویز بھی لیں، پھر ان تمام باتوں، مشوروں اور تجاویزمیں سے جو آپ کے دل کو لگیں،انہیں اپنے منصبوبے کے نکات میں شامل کر لیں اور پھر دل و جان سے اس منصوبے کو پایہ ءِ تکمیل تک پہنچانے کے لیے محنت کریں۔
  اگر آپ واقعی کسی منزل کی تلاش میں مندرجہ بالا نکات پہ عمل کرتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ کامیابی سے ہمکنار نہ ہوں۔یاد رکھیں کہ صرف محنت ہی کامیابی کی کنجی ہے،شیخ چلی کی طرح ہوائی قلعے تعمیر کرنے والوں کے ہاتھ محض رُسوائی کے اور کچھ نہیں آتا۔