Showing posts with label اسدمحمود. Show all posts
Showing posts with label اسدمحمود. Show all posts

Monday, 1 June 2015

کردار سازی

”چلوبھئی چلو،سارے لوگ سیمینار ہال میں  چلو.... ! چلو،چلو....!ہم سب نے چونک کر پیچھے دیکھا ،سامنے پرنسپل کھڑے تھے،وہ ہمیں  بھیڑوں کی ہانکنے لگے۔دراصل ،اصل وقوعہ کچھ یوں  ہے کہ یہ مورخہ 4دسمبر کی ایک سہانی صبح تھی ۔دوستوں  کے ہمراہ میں  شعبہ انجنیئرنگ میں  داخل ہوا تو پہلی کلاس کا وقت ختم ہوچکا تھا۔کلاس فیلو،جو کلاس سے باہر نکل رہے تھے ،ان سے معلوم ہوا کہ مزیدکوئی کلاس نہیں  ہوگی کیونکہ سیمینار ہال میں کچھ دیر بعد انسدادِ کرپشن پہ ایک سیمینار منعقد ہورہا ہے۔ہم یہ ”خوش خبری “ سن کر پلٹا ہی چاہتے تھے کہ پرنسپل صاحب نازل ہو گئے اور ہم سب کو ”ہنکا “ کر سیمینار ہال میں  لے گئے اور مزے کی بات یہ کہ بعد میں  اپنی تقریر کرتے ہوئے ہماری ”فرمانبرداری“کی یوں  ”داد “ دی کہ کہنے لگے :”یہ سب آپ کے والدین کی اچھی تربیت کا ہی اثر ہے کہ آپ لوگ یہاں  ہیں “۔
  سیمینار ہال میں  پہنچے تو معلوم ہواکہ بین الاقوامی ہفتہءِ انسدادِ کرپشن (جو کہ 3سے 9دسمبر تک منایا جاتا ہے)کے سلسلے میں ”مستقبل کی تعمیر کے لیے نوجوان نسل کی کردار سازی (Character building of youth for future building)کے عنوان سے سیمینار منعقد کیاجارہا ہے۔(انسدادِکرپشن ڈے 9دسمبر کو منا یا جاتا ہے،اس کی ابتداء2003ءمیں  ہوئی جب میکسیکو ،امریکہ میں  انسدادِ کرپشن ڈے منانے کی ایک قرار داد پیش کی گئی ،پاکستان ان چند ممالک میں شامل تھا جنہوں  نے 9دسمبر 2003ءکو ہی اس پہ دستخط کر دیئے تھے)۔سیمینار ہال میں  بیٹھے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ نیب (NAB, National Accountability Burro) کے ڈپٹی ڈائریکٹر،ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ سوشل سائنسز کے سربراہ(Dean)جناب محترم ڈاکٹر ذکریا ذاکر صاحب بھی آ موجود ہوئے۔
  رسم ِ دین و دنیا نبھاتے ہوئے تقریب کا باقاعدہ آغازتلاوتِ قرآنِ کریم اور نعت ِ رسولِ مکرمﷺسے کیاگیا۔ہیلے کالج پنجاب یونیورسٹی کے ایک مقرر نے مسلمان نوجوانو ں  کے تدبّر اور عزم کی نشاندہی کی ۔اس کے بعد NABڈپٹی ڈائریکٹر نے حاضرین کو اس قومی ادارے کے کام کرنے کے طریقہءِ کارکے بارے میں  آگاہ کیا، ان کے مطابق NABانسدادِ کرپشن کے لیے تین طرح کے اقدامات بروئے کار لارہا ہے:

1-   آگاہی(Awareness)
2-   انسداد/روک تھام(Prevention)
3-   نفاذ(Enforcement)
  انہوں  نے دورانِ گفتگو یہ بھی بتایا کہ یہ اداراہ 1999ءمیں  وجود میں  آیا اور اب تک اس میں  2,36,000درخواستیں  رپورٹ ہوئیں  جن میں  سے 4720پہ عمل درآمد ہوا ،اور ان کے نتیجے میں  اڑھائی سو ارب روپے کی وصولی( Recovery)ہوئی۔
 ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے بھی کچھ دیر نوجوانوں  کی تعریف کرکے ہمارے سینے پھلائے اور اجازت چاہی(جوہم نے بخوشی دے دی)۔آخرمیں  سماجی سائنسدان(Social Scientist)،(سماجی سائنسدان وہ ہوتا ہے جو معاشرے کا رویہ بدلتاہے،
A social scientist who changes the behavior of the society)) ڈاکٹر ذکریا ذاکر صاحب نے مائیک سنبھالااور انسان کی نفسیاتی باریک بینیوں اورسماجی پیچیدگیوں سے ہمیں آگاہ کیا۔انہوں  نے اپنی گفتگو کو تین حصوں  میں  بانٹا۔سب سے پہلے کردار سازی پہ جو اب تک کی تحقیق ہوچکی ہے اس کا نچوڑ ہمارے سامنے رکھ دیا کہ Normal personality creates good character(نارمل شخصیت اچھا کردار تشکیل دیتی ہے)انہوں  نے مزید بتایاکہ گزشتہ دو سو سال سے معاشرے پہ صرف تنقید کرنے والے کوئی تبدیلی نہیں  لاسکے ۔انہوں  نے کردارسازی کے عام مستعمل منفی طریقے بتائے جو کردار سازی کے بجائے کردار کشی کا کام کرتے ہیں ،آپ بھی دیکھئے:
٭صرف تقریر جھاڑنے سے کچھ نہیں  ہوتا،تقریریں  جھاڑنے سے آپ اچھے مقرر توکہلا سکتے ہیں لیکن معاشرے میں  مثبت کردار سازی کاعمل پروان نہیں  چڑھ پائے گا۔
٭ڈرا دھمکا کر لوگوں  کے روّیے کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرنا بھی بے سُود ہے کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ ہرمسلّط شدہ بات کا توڑ نکال لیتا ہے ،ڈاکٹر صاحب نے بتا یا کہ محض سزاں  سے کرپشن ختم کرنے میں  کسی حد تک مدد تو مل سکتی ہے لیکن ایسے یہ مکمل طور پہ ختم ہونے والی نہیں ہے،یہ مرض جڑ سے صرف سزاں  کے خوف سے ختم نہیں  کیا جاسکتا کیونکہ ”متاثرہ“شخص قانونی پیچ و خم کو اپنے بچاکے لیے استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے اور سزاں  کو غیر موثر کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے ۔
٭لوگو ں  اور بالخصوص نوجوانوں  کی آزادی میں  رکاوٹ بننا یا ان میں  دباکے زیرِ اثر کردار سازی پروان چڑھانے کی کوشش بھی فضول ہے کیونک انسانی ذہن خوشدلی سے صرف وہی چیز قبول کرتا ہے ،صرف اسی بات پہ عمل کرتا ہے جو اس پہ مسلّط نہ کی گئی ہو بلکہ اس نے آزادی سے اور اپنی مرضی سے اس کا انتخاب کیا ہو۔
  آخر میں  ڈاکٹر ذکریاذاکر صاحب نے کردار سازی کے صحیح طریقوں  پہ بھی روشنی ڈالی :
٭معاشرے میں  نوجوانوں  کی بھرپور شمولیت ہو تاکہ نوجوان اس معاشرے کو اپنا معاشرہ سمجھیں ،ان میں  معاشرے کے حوالے سے احساسِ ذمہ داری آئے(They feel sense of ownership of society)۔وہ اس معاشرے کومحض بزرگوں  کا دقیانوسی معاشرہ خیال نہ کریں ۔
٭نوجوانوں  کی ایسے تربیت کی جائے کہ وہ اس معاشرے کو اپنا سمجھیں ، وہ اس معاشرے سے وابستہ ہر چیز کو اپنا جانیں ،وہ یہ جانیں  کہ ہم یہاں  جو بوئیں  گے ،کل کو وہی کاٹیں  گے چنانچہ ہر شخص اپنا احتساب خود کرے ۔ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ سڑک پہ ہونے والے حادثے (Road Accidents)کبھی خود بخود نہیں  ہوتے ،ان کی ہمیشہ تین وجوہات ہوتی ہیں ۔

1-   سڑک خراب ہوگی ،جو کسی ٹھیکیدار /معمار کی غلطی/کرپشن ہوگی۔
2-   گاڑی خراب ہوگی جو گاڑی کے مالک /مکینک کی غلطی ہوگی۔
3-   ڈرائیورکی غلطی ہو گی۔
٭انہوں  نے کہا کہ ہمیں  خود میں  یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ عوام کا پیسہ ہمارا ہی پیسہ ہے ،وہ ہمِیں  سے تعلق رکھتا ہے(Public money belongs to us)اور دوسری بات یہ کہ ہم سچ بولنا سیکھیں  ،انہوں  نے انگریزی میں  ایک لافانی جملہ کہا:
Untruthful behavior is linked with corruption
  تقریرکے آخر میں  انہوں  نے ہمیں  نصیحت کی کہ "آیئے!ہم ایک ایسامعاشرہ بنائیں ،جہاں  کردار خود بخود بنے ،ہر کوئی ایماندار بننا چاہے،بے ایمانی کرنے اور بے ایمانی کرنے کا کو ئی سوچے تک نہیں "۔

Sunday, 31 May 2015

چاک گریباں

چاک گریباں

مجھے باقی لکھاریوں  کا تو علم نہیں  لیکن میرے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بعض دفعہ تو موضوعات راہ چلتے مل جاتے ہیں  اور بعض اوقات لکھنے بیٹھو تو مضامین ذہن سے ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔بہر حال یہ موضوع بھی انہی موضوعات میں  سے ایک تھا جو اچانک سے میرے ذہن میں  عود کر آیا تھا۔مشرقی پاکستان کے آخری سیکریٹری وزارتِ تعلیم اور ممتاز ادیب مسعود مفتی کا16دسمبر 1971ءکے سقوطِ ڈھاکہ کے سے خون آشام پسِ منظر میں  لکھا گیا ایک مضمون بعنوان ”ایک اور چہرہ“میرے زیرمطالعہ تھا۔
  غلطی زندگی میں  کون نہیں  کرتا،اپنے اپنے انداز اور قد کی غلطی ،چھوٹے کی چھوٹی اور بڑے کی بڑی غلطی۔چھوٹی غلطیو ں  پر معافی بھی مل جایا کرتی ہے اور اگر غلطی قابلِ معافی نہ ہو تو سزا بھی زیادہ بڑی نہیں  ہوتی لیکن جوں  جوں  قد بڑاہوتا جائے ،غلطی کا امکان کم اور کی جانے والی غلطیوں  کا قد بھی بڑا ہوتا جاتا ہے،بڑی غلطی کا خمیازہ بھی بڑا ہی چکانا پڑتا ہے ۔بعض اوقات بہت سی شخصی غلطیاں  مل کر اجتماعی گناہوں  کا روپ دھار لیتی ہیں ،ایسا بھی ہوجایا کرتا ہے کہ لمحوں کی خطائیں  ،صدیوں  پر بھاری پڑ جائیں ۔
  بحثیتِ قوم1947ءمیں  غلامی کے طوق اپنی گردن سے اتار کرہم آ زاد وطن کے شہری بنے۔یہ اس وقت کی آبادی اور رقبے کے لحاظ سے دنیائے اسلام کی سب سے بڑی مملکت تھی لیکن ابھی 24برس ہی بیتے تھے کہ ہماری قوم کی یگانگت،یکجہتی اور نظریہئِ پاکستان کے ستونوں  پہ کھڑی عمارت نہ صرف کھوکھلی اور شکستہ ہوگئی بلکہ جب بیرونی دشمن نے حملہ کیا تو وہ دھڑام سے زمین بوس ہوگئی۔محافظوں  کو حملہ آوروں  کا استقبال کر کے ان کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔پاکستان بننے سے بٹنے تک کا یہ سفرمحض اس ایک نسل کے جوان ہونے تک کا تھاجو قیامِ پاکستان کے وقت پیدا ہی ہوئی تھی۔ یہ سوال گزشتہ41برس سے جواب کامتمنی ہے کہ ان 24برسوں  میں  ایسا کیا ہواکہ اپنے پرائے بن گئے،حالات اس نہج پر کیسے اورکیوں  پہنچے کہ دوست دشمن،محب وطن غدار اور حبیب رقیب بن گئے۔ یہ سانحہ کیونکر ہو کہ ہمارے خاکی پوشوں  کی بے سروسامانی کے باوجود کی گئیں وفائیں  بارآور نہ ہوسکیں  ۔وہ کیسے گل تھے جن سے زہر ہی زہر سا پھوٹتا رہا،جو باغبانوں  تک کو لہولہان کر گیا۔
   بہت سے افراد نے اپنی بساط کے مطابق بہت کچھ لکھا۔حمودالرحمان نامی کمیشن بھی بنایاگیا۔سیاست دانوں  کی کارستانیاں  اور فوج کی بے سر وسامانیاں منظرِ عام پر آئیں لیکن اس سب کے باوجود کوئی اپنی غلطی تسلیم کرنے پہ تیار نہ ہوا۔شاید ہم ایسے ہی کم ظرف ہیں  کہ وقت گزرنے ،طوفان ٹوٹ چکنے کے بعد بھی ازالہ تو درکنار،اپنی اپنی غلطی ماننے سے ہی گریزاں ہیں ۔مجھے تو یوں  لگتا ہے کہ ہم جیسے کم ظرف اس قابل ہی نہ تھے کہ اس اعزاز کے حق دار رہتے،بنگال کے پٹ سن کے ریشوں ،پنجاب کے گندم کے خوشوں ،وادیئِ سندھ کے کماداور مکئی ،جوار کے سِٹّوں  اور بلوچستان و سرحد کے باغات کے پھلوں  والی سر زمین یکجا رہتی۔ہاں !یہ ہماری کم ظرفی بھی تو تھی جس نے ہمارے وطن کو دولخت کر دیا۔ہمیں  پاکستانی مسلمان بننے کے بجائے بنگالی،بلوچی،پٹھان ،سندھی اور پنجابی بنادیا۔
   مسعود مفتی صاحب نے یہ مضمون 1977ءمیں  تحریر کیا تھا۔انہوں  نے اپنے اعلیٰ ظرف ہونے کاثبوت دیتے ہوئے اپنی خطاں  کی پردہ پوشی نہیں  کی ،اپنی نسل کے ہاتھوں  سر زد ہونے والی غلطیوں  کو انہوں  نے زدِ قلم کیا ہے۔انہوں  نے کیاکیا کہا تھا ،آیئے!انہی کی زبانی سنتے ہیں :
”1947ءمیں  دو قوموں  کے ساتھ دو رویوّں  نے بھی جنم لیا۔ ایک طرف پاکستان میں  کامرانی کے بعد کاہلی ابھری ،تو دوسری طرف ہندوستان میں  ہار کے بعد ہمت ابھری۔ہم 1940ءمیں  مقصدشناس بنے ۔1947ءمیں  مقصد براری ہوئی توہم نے سامانِ حرب اتار کر رکھ دیا اور سستاتے ہوئے سو گئے۔ہندو 1940ءسے بہت پہلے مقصد شناس بن چکے تھے۔1947ءمیں  انہیں اپنے مقصد میں  ناکامی ہوئی تو ان کی ساری سوچیں  اور کوششیں  اسی مقصد کے تعاقب میں  لگ گئیں ۔ہماری مقصد فراموشی اور ان کی مقصدی لگن دو مختلف رویّے تھے۔مشرقی پاکستان کی نئی نسل ان دو رویّوں  کا لازمی نتیجہ تھی۔جب ہم نے اپنے بچوں  کی انگلی چھوڑ دی تو دوسروں  نے تھام لی اور قدم قدم اپنے ساتھ چلانے لگے، اور بالآخر اُدھر لے گئے جدھر وہ لے جانا چاہتے تھے۔
  ان دو رویّوں  نے ہماری نسل کو کس طرح نئے انداز میں  ڈھالا؟اس کی داستان طویل ہے،مگر دو لفظوں  میں  بیان ہوسکتی ہے:”نظامِ تعلیم“۔نظامِ تعلیم ایک خاص رُخ میں  چلنے والی ہَوا ہے، جس کے رُخ کا تعیّن ہر قوم کو خودکرنا پڑتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے تساہل کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں  یہ ہَوا24برس تک پاکستان کے مخالف رُخ میں  چلتی رہی۔ہَوا کے اس رُخ متعیّن کرنے میں  سب سے بڑا حصہ ہندو اساتدہ کا تھا۔اس کے بعد ان عناصر کا جو یا تو ہندوستان کے ایجنٹ تھے یا اپنے طور پر نظریہئِ پاکستان میں  یقین نہ رکھتے تھے۔یہ عناصر بڑے موثر طریقے سے پالیسی مرتب کرنے والے اداروں  میں  دخیل تھے۔
  قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مارچ 1971ءکی فوجی کاروائی کے بعد تعلیمی ادارے دو تین دن ماہ بند رہے اور جب رفتہ رفتہ کھلنے لگے تومسلمان اساتذہ کی بہت بڑی تعداد غیر حاضر تھی ،مگر ہندو اساتذہ کم وبیش سبھی حاضر ہوگئے تھے اور بڑی تندہی سے اپنے مذموم کاروبار میں  مصروف رہے۔اساتذہ کے علاوہ نصابی کتب بھی ہَوا کے رُخ کو ادھر ہی چلا رہی تھیں ،میٹرک کی انگریزی کی کتاب میں گرامر کی تراکیب کی تشریح کے لیے جو فقرے بنائے جاتے تھے ان میں  زیادہ تر ہندوں  کے نام تھے اور ذکر بھی ہندو رسومات یا کلچر کاہوتاتھا۔ تاریخ کی ایک درسی کتاب میں سب سے نمایاں تصاویر پرتھوی راج اور رانا سانگا کی تھیں ،اکبرِ اعظم کے سیکولرازم کی تعریف تھی مگر کسی مسلمان بادشاہ کی تصویر نہ تھی۔
  نئی نسل پر یہ الزام ہے کہ اس نے وطن سے نفرت کی اور وطن کے دشمن سے محبت کی ۔اس نے دو قومی نظریے سے نفرت کی جس پر پاکستان کی عمارت کھڑی ہے۔اس نے ان حالات کو فراموش کردیا جن کی وجہ سے پاکستان کاوجود ناگزیر تھا۔اس نے اپنی تواریخ کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے سے انکار کر دیا۔اس نے اپنا ماضی اپنی آنکھوں  سے نہیں  دیکھا بلکہ اپنے کانوں  اور غیروں  کی زبانوں  سے پرکھا۔اس کا یقین دھندلا اور عمل اُلٹا ہے۔نئی نسل پر الزام بیشک درست ہے مگریہ ملزم نہیں ہے۔اصل ملزم وہ نسل ہے جس پر یہ الزام نہیں  لگایا جاتایعنی بزرگ نسل جس نے پاکستان حاصل کیا تھااور پھر بڑی دیدہ دلیری سے ان نعروں  کو تار تار کرنے لگے ،جو سفر کے دوران اس کے پرچم پر لکھے تھے۔ان کے بجائے تواریخ کی مردہ قوموں  کے کفن کی دھجیاں  اٹھا کر سینے پر سجانے لگے۔نئے عہد توڑ ڈالے اور کہنہ فرسودگیوں  کو نئے زاویے سمجھ کر اپنا لیا۔
  منزل پر پہنچ کر نئی نسل کو تربیت دینے کے بجائے اس کے سامنے روح و جسم کی سٹرپ ٹیز(Strip-Tease)کرنے لگے۔ سرسید، علی برادران،سیّد عطااﷲ شاہ بخاریؒ،علامہ عنایت اﷲ مشرقی،علامہ محمد اقبالؒ اور قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کی دی ہوئی پوشاکیں نوچ کر اتارنے لگے اور بالآخراندر سے اٹھارویں اور انیسویں صدی کا وہ گھن زدہ زوال پذیرکردار نکال پیش کیا،جس نے ہند کی اسلامی سلطنت کوفرنگی کے ہاتھوں  بیچ ڈالا تھا۔بزرگ نسل نے نئی نسل کو اگر کچھ بتایا تو صرف یہ کہ ’غنڈہ ہیرو ہے،شرافت گناہ ہے،دیانت داری بزدلی ہے،موقع پرستی عقل مندی ہے،بے اصولی اصل ہے،بااصولی نقل ہے،خوشامد عبادت ہے،اخلاقی جراءت حماقت ہے،خود احتسابی بغاوت ہے اور سیاست رشوت ہے‘جب سوچ کاہر دھارااُلٹا بہنے لگا تو نظامِ تعلیم کی کجی بھی نظر نہ آئی اور اس کے نتیجے میں  نئی نسل کے وطنیت کے تصور کو بھی گھن لگ گیا۔پاکستان سے غداری اسی نسل نے کی ہے جس نے پاکستان بنایا تھامعماروں کی غداری بدترین غداری ہوتی ہے۔ایسی عمارت کے مکین ہمیشہ ہی چھت گرنے کے اندیشوں میں  بھٹکتے رہتے ہیں ۔“
  مسعود مفتی صاحب نے جو نقشہ کھینچا ہے وہ 1947ءسے 1971ءتک کا ہے لیکن آپ آج کے حالات کا جائزہ لیں توخاکم بدہن کیا ایسا نہیں  لگتا کہ ہم ایک اور سقوط کی طرف بڑھ رہے ہیں کہ گردوپیش ،ہر سُو وہی فضاہے جو ایک طوفان کے آنے سے پہلے کی ہوتی ہے۔وہ طوفان ،جس کے بعد پھر” کمیشن “بنتے ہیں  اور حقائق چھپائے جاتے ہیں ۔

Saturday, 30 May 2015

”آئینوں “کی حمایت میں

”آئینوں “کی حمایت میں

جاوید چودھری میرے پسندیدہ ترین لکھاریوں  میں  سے ایک ہیں ۔وہ ایک قومی اخبار میں  کالم نگار ہیں ۔بنیادی طور پر لالہ موسیٰ ایک پسماندہ گاں  سے تعلق رکھتے ہیں  لیکن اب ان کا شمار پاکستان کے ان چند ایک گِنے چُنے لوگوں  میں  ہوتاہے جو ابن الوقتوں کی آنکھوں  میں  آنکھیں  ڈال کر سچ کہہ بھی سکتے ہیں  اور ببانگ ِ دہل لکھ بھی سکتے ہیں ۔”زیرو پوائنٹ“ کے عنوان سے ان کی چھ کتب بھی شائع ہوچکی ہیں  جو ان کے مختلف اخبارات میں  لکھے کالمز کا مجموعہ ہیں ۔انہیں  سندھ کے سابق گورنر اور ادارہ طبِ ہمدرد کے بانی حکیم محمد سعید شہیدؒ کی شہادت پہ ایک کالم بعنوان"مدینے کاشہید" لکھنے پہ بہترین کالم نگار کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ان کی ایک اور کتاب "گئے دِنوں  کے سورج"صحافت میں  ان کے ابتدائی دنوں  کی سرگرمیوں  کی عکاس ہے۔ اس میں  چند بڑے لوگو ں  سے ملاقاتوں  کے احوال کا تذکرہ ہے اور کچھ آغاز کے دنوں  کے فیچرز بھی ہیں ۔یہ کتاب تاریخ ،واقعات ،معلومات اور منفرد اندازِ تحریر کی حامل ہے۔اس میں  اعلیٰ درجے کی ادبی چاشنی بھی ہے اور بیان کردہ معلومات ،تاریخ اور معلومات میں  ایساحسین امتزاج، ایک ایساعمدہ ربط ہے جوقاری کو تادیر اپنے حصار میں  لیے رکھتاہے۔وہ ایک معروف نجی چینل کے لیے ”کل تک “کے عنوان سے ایک ”ٹاک شو“(Talk Show) کی میزبانی بھی کرتے ہیں ۔مختلف کالجوں  اور یونیورسٹیوں  میں  مختلف موضوعات پہ لیکچر دینے کے لیے بھی بلائے جاتے ہیں ۔فی الوقت وہ پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے لکھاری ہیں ۔
  جاوید چودھری حقائق پسندانہ شاعری کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بھی بنتے ہیں ۔وہ کئی مرتبہ اپنے کالمز میں  اس بات کا اظہار کر چکے ہیں  کہ انہیں مختلف طبقہ ہائے زندگی کی طرف سے سخت ردّ ِ عمل اور شدید تنقیدکا نشانہ بنایا جاتا ہے۔وہ لوگوں  کے اس رویے سے کافی جز بز ہوتے ہیں ۔اگر کوئی کالم ،اس میں  لکھی گئی کوئی کڑوی سچائی کسی ”صاحب کی طبع نازک پہ گراں  گزرے ،کچھ حقائق کسی کواپنی اناء،اپنے ذاتی مفاد کے منافی لگیں تو وہ محض تنقید پہ اکتفاءنہیں  کرتا بلکہ کئی غیر اخلاقی باتیں  کو تنقید کا حصہ بنا لیتاہے۔آج کل ایسا بھی ہوتا ہے کہ موبائل ایس۔ایم۔ایس،فیس بُک اور سماجی رابطے کی کئی دیگر ویب سائٹس(Websites) پہ بھی ”ناپسندیدہ“ افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کے متعلق جھوٹا پراپیگنڈہ کر کے ان کی شہرت اور ساکھ کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔جاوید چودھری صاحب کو بھی کئی اندازمیں حق گوئی سے باز رکھنے کی کوشش کی جا چکی ہے۔وہ اپنے کئی کالمز میں  بھی اس با ت کا اظہار کرچکے ہیں  اور ایک دفعہ تو انہیں  لوگوں  کے اس رویے سے تنگ آکر یہاں  تک کہنا پڑا کہ میں کالم نگاری چھوڑ کر کوئی دوسرا کاروبار شروع کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں  جس میں  لوگوں  کی زہر میں  بجھی باتوں  کے تیروں  کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
  بات محض تنقیدکی ہو تو کوئی بھی تخلیق کاراسے بُرا نہیں گردانتا کہ کسی بھی تخلیق کے معیار کااس سے متعلق مثبت یا منفی تنقید دیکھ کر ہی کیا جاتا ہے لیکن چونکہ ہمارے ہاں  کا باوا آدم ہی نرالا ہے اسی لیے یہاں  صرف غیر اخلاقی تنقید پر بھی اکتفاءنہیں  کیا جاتابلکہ اکثر اوقات تخلیق کار کو”سبق سکھانے“کے لیے قانون بھی ہاتھ میں  لینے سے گریز نہیں  کیا جاتااور سچ کہنے ،لکھنے والوں  کو صفحہءِ ہستی سے ہی مٹا دیا جاتا ہے۔پاکستان میں  حالیہ چند برسوں  میں  سینکڑوں  صحافیوں  اور اہلِ علم ودانش کو قتل کر دیا گیاہے۔سچ کی کڑواہٹ کو برداشت نہ کر سکنے والوں نے حق کا وہ سرچشمہ ،وہ منبع ہی ختم کر دیا ،سچ کے عَلم سے گھبرا کراس عَلم کو بلند کرنے والے ہاتھ ہی کاٹ دیئے ۔یہاں  دعاں  کے لیے اُٹھے ہاتھ کاٹنے کی رسمیں  عام ہیں :
بلند ہاتھوں  میں  زنجیر ڈال دیتے ہیں
عجیب رسم چلی ہے ،دعا نہ مانگے کوئی
حق و باطل کی بات ہو تو ان کی جنگ تو ازل سے جاری وساری ہے۔حق کی صفوں  میں  منصور الحق جیسے دیوانے ہیں  تو شر کے پاس ہلاکو اور چنگیز خان جیسے سپاہی۔کبھی حق کو مٹا دیا جاتا ہے اور کبھی ایسا کرتے کرتے باطل خود مٹ جا تا ہے،لیکن اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ حق پسِ زنداں  ہوتا ہے اور ظلم و جور ہر طرف راج کر رہاہوتا ہے،حق کے نصیب میں  شاید صرف ”آخری فتح“ ہی ہوتی ہے۔فی زمانہ تو یہی ہوتا دیکھا گیاہے کہ جس کسی نے بھی باطل کی مخالفت میں  زبان کھولی ،سچ کا پرچم تھام کر اُسے لہرانے کا عز م اور حوصلہ کیااسے نشانِ عبرت بنادیا گیااور ہمارے وطنِ عزیز میں  تویہ ”رسم“ کچھ زیادہ ہی پابندی سے نبھائی جاتی ہے۔برسوں  پہلے کراچی کے فٹ پاتھوں  پہ علامہ حسن ترابی، مفتی شامزئی کا خون بہایا جاتا ہے،کراچی ہی کی ایک سڑک پہ گورنر سندھ حکیم محمد سعید ؒ کو سرِ عام گولیوں  سے چھلنی کردیا جاتا ہے،کچھ برس قبل محسنِ قوم وملت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کے گھر پہ ہی طویل عرصے کے لیے نظر بند کر دیا جاتا ہے،چند ہفتے قبل شاعر ڈاکٹر شبیہ الحسن کو لاہور کی ایک سڑک پراندھی گولی کا شکار بنادیاجاتا ہے۔کوئٹہ میں  (اور حالیہ پنجگور میں  بھی) صحافیوں  کواپنے مفاد کی راہ میں  رکاوٹ بننے پہ راہی ملک ِعدم کر دیا جاتاہے،دن دیہاڑے مینگورہ(سوات ) میں  ملالہ یوسف زئی پہ سرِ عام گولیوں  کی بارش کر دی جاتی ہے!حق و باطل کی جنگ میں  یہ تمام داستانیں ، قربانیوں  کے یہ قصے نئے نہیں  ہیں کیونکہ ازل سے ہی حق کو نمو کے لیے لہو کی ضرورت رہی ہے،سچائی کے یہ دیئے کسی تیل سے نہیں  بلکہ دیوانوں  کے لہوسے روشن ہوتے ہیں  اور پھر حق کے یہ دیئے حق پرستوں  کے سروں  کی فصیل پہ ہی سجتے ہیں ۔
  ان تمام واقعات میں  تازہ اضافہ معروف کالم نگار حامد میرکو نشانہ بنانے کی بزدلانہ کوشش ہے ،اسلام آباد میں  ان کی گاڑی میں کسی نے بم رکھ دیا،ان کی زندگی باقی تھی ،سو، وقت پہ پتہ چل جانے پربم ڈسپوز(Dispose) کر دیا گیایوں  وہ محفوظ رہے۔ اس واقعے سے چند دن قبل جمعیت علمائے اسلام کے راہنمامحترم قاضی حسین احمد کو بھی خود کش حملے کے ذریعے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی لیکن خوش قسمتی سے وہ بھی محفوظ رہے۔
  اب یہ سب ہمیں  ہی سوچنا ہے کہ وہ کون سے چہرے ہیں  جو اپنے مفاد کی راہ میں  آنے والی ہر رکاوٹ ،ہر سچائی کو ختم کر دینے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں ،یہ کون لوگ ہیں  جو اسلام کے نام پہ دہشت گردی اور قتل وغارت کر رہے ہیں ۔ یہ کیسے مسلمان ہیں  جو اپنے جیسے مسلمانوں  کو ہی ختم کر کے اپنا اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں ۔یہ کیسے اسلام کی ترویج کررہے ہیں  اور کیسے اسلام کا نفاذ چاہتے ہیں  کہ اس کے لیے انہیں جمعیت علمائے اسلام کے راہنما قاضی حسین احمد جیسے راہنما پہ قاتلانہ حملہ کرنا پڑتا ہے۔یہ لوگ میر جعفرو میر صاد ق کے چولے میں  ملبوس ہمِیں  میں  موجود ہیں ۔تخلیق کار کسی بھی ملک کااثاثہ ہوتے ہیں لیکن ہم میں  موجو د یہ غدار ہاتھ ان اثاثوں ،انہی تاریخ ساز ہستیوں  کو ختم کرنے کے دَرپے ہیں ۔جہاں تخلیق کار نہ رہیں تو معاشرہ مہذب کہلانے کا حق دار نہیں  رہتا۔ایک تخلیق کار کی موت ،ایک پورے عہد کی موت ہوتی ہے۔ہم میں چھپے غداروں  کے ہاتھ ،جو عِلم ،فن اورتخلیق کے عَلم کودفن کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ،ہمیں  وہ ہاتھ کاٹنے ہوں  گے۔ہمیں اپنے عہد کو موت سے بچانا ہوگا۔
٭٭٭

Friday, 29 May 2015

کامیابی....خود اعتمادی

کامیابی....خود اعتمادی

شنید ہے کہ ایک حضرت کو تقریر کرنے کا بے حد شوق چرایالیکن اپنے اس شوق کو پایہء ِتکمیل تک پہنچانے کی کوئی صورت انہیں نظر نہ آتی تھی کہ پیشتر اس کے کبھی کوئی ایسا عمل ان سے سر زد نہ ہوا تھامگر کرتے تو کیا کہ دل کے ہاتھوں مجبور تھے بالآخر انہوں نے پنجابی کے اس محاورے ”شوق دا کوئی مُل نئیں“ (شوق کی کوئی قیمت نہیں)پر عمل کرتے ہوئے ایک تقریری مقابلے میں اپنا نام لکھوادیا۔نام لکھوانے کے بعد ذہن کے نہاں خانوں میں تقریر کی مشق شروع کردی،ان دنوں وہ اکثر گم سم پائے جاتے کیونکہ وہ ذہن اور تصور میں خود کو مقرر سمجھ بیٹھے تھے اور خیال ہی خیال میں حاضرین پر تقریریں جھاڑکر خوش ہوا کرتے تھے۔
  اُن کے حق میں یہ فلاسفی درست ثابت ہوئی کہ ”ہونی کو کوئی روک نہیں سکتا“،ہوا یہ کہ مقابلے کا دن آپہنچا۔موصوف تیار ہوکر ،خوب سج دھج کے تشریف لائے۔تحریر شدہ کوئی تقریر ساتھ لی اور نہ اس کی ضرورت سمجھی کہ وہ اپنے خیال میں خود کو ایک زبر دست مقرر گردانتے تھے ۔اب ہوا اُن کے ساتھ یہ ،کہ جب اپنا نام پکارے جانے پر سٹیج پہ پہنچے تو اپنی جانب لاتعداد حاضرین کو ”گھورتے “دیکھ کر ان کی سٹّی گم ہوگئی۔لڑکھڑاتے قدموں کو سنبھالتے ہوئے بمشکل ڈائس تک پہنچ تو گئے لیکن اب ان کے ذہنِ رسا سے الفاظ یوں غائب تھے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ان کے ساتھ بھی وہی صورتحال پیش آئی جو ابنِ انشاءکے ساتھ ”مرید پور کا قاضی “میں پیش آئی تھی۔بہر طور، انہوں نے اپنے حواس کو قابو میں رکھنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے مائیک کو ہاتھ سے ہِلا جُلا کر دیکھا اور اسے ”آن“پاکر واپس پلٹنے ہی لگے تھے کہ جھٹ سے انہیں یاد آیا کہ وہ یہاں تقریر کرنے آئے ہیں ،الیکٹریشن کا کام کرنے نہیں۔
  مزید حواس باختگی کے ساتھ انہوں نے ڈائس کو مضبوطی سے تھام لیا(دیکھنے والے اگر اب یہ گمان کرتے ہیں کہ انہوں نے ڈائس کو بھاگنے سے روکنے کے لیے تھاما تھا توہم کیا کر سکتے ہیں کہ ”جمہوریت“میں کوئی کچھ بھی کہہ سکتاہے)۔مزید کچھ لمحے گزرنے کے بعد انہیں خیال آیا کہ انہیں وہاں کچھ نہ کچھ بولنا بھی تھاکہ سامنے بیٹھے ،ان کو گھورتے ،لاتعدادسامعین ان کو ”مجسمہ “بنے دیکھنے میں قطعی دلچسپی نہ رکھتے تھے۔
  اب خدا خدا کرکے چند الفاظ ان کے ذہن میں آ ہی گئے۔انہوں نے ہڑ بڑا کر کہا:”حح حاحا ضرین!“(تمام یاد آئے الفاظ پھر کسی ”دعوت“پہ چلے گئے)وہ چند لمحے توقف کے بعد پھر گویا ہوئے:”حح .....حاضرین!حاضرین کرام!میں نےجو کچھ کہناتھاوہ مجھے معلوم تھایاخداکو لیکن اب وہ خداکوہی معلوم ہے!“اس کے بعد کیا حوادث پیش آئے،”تاریخ“ اس سے متعلق بالکل خاموش ہے البتہ مجھے یہ واقعہ ملا تو سوچا کہ کیوں نہ خود اعتمادی کے نفسیاتی پہلو پر کالم لکھا جائے(ایک ”اہم“وجہ یہ بھی تھی کہ کوئی ڈھنگ کا موضوع ہی نہیں سُوجھ رہا تھا)۔
 خود اعتمادی دراصل انسان کا خود پر اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کانام ہے۔خود اعتمادی کی پہلی سیڑھی علم ہے۔علم سے مراد کسی بھی طرح کا علم ہے،آپ نے اکثر مشاہدہ کیاہوگاکہ دیہاتوں کے اَن پڑھ لوگوں کو اگر کسی افسر کے سامنے بااَمرِمجبوری بھی جانا پڑے تو ان کی حالت کیا ہوتی ہے،ہفتہ قبل ہی صاحب سے ”ملاقات“کی تیاری شروع ہوجاتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی اُن سے موقع پر کئی لطیفے سرزد ہوجاتے ہیں۔اس مسئلے کانسخہ شیکشپئرنے یوں بتایاکہ
What is success? Know more than others, work more than others and expect less than others. “(کامیابی کیاہے ؟دوسروں سے زیادہ علم رکھنا،دوسروں سے زیادہ محنت کرنااور دوسروں سے توقعات کم سے کم وابستہ کرنا)۔مجھے شیکسپئر کے اس قول سے سو فیصدی اتفاق کرتاہوں کیونکہ خود اعتمادی ہی کامیابی کادوسرانام ہے۔
 خود اعتمادی کی دوسری سیڑھی ہر طرح کے لوگوں کے ساتھ بغیر کسی جھجھک اور ہچکچہاہٹ کے گفتگو کرنا ہے ،یہ سب سے اہم مرحلہ ہے کیونکہ آپ کے پاس علم ہو اور آپ اسے پھیلائیں نہیں،تویہ ایساہی ہے کہ جیسے رُکا ہوا پانی ،جو بہت جلد بدبودار ہوجاتاہے لہٰذا اپنی شخصیت کو پاکیزہ اور خوشبوداررکھنے کے لیے بھی دوسروں کے ساتھ بات چیت بہت ضروری ہے۔
  خود اعتمادی کو تیسری اور انتہائی سیڑھی ،بہترین منصوبہ بندی اور اس پر عمل کرنا ہے۔آپ جو بھی کام کرنا چاہتے ہوں ،جس بھی منزل کو پانا مقصود ہو،اس کے لیے پہلے باقاعدہ منصوبہ بندی کریں۔کتب، رسائل اور اخبارات سے مدد لیں،اساتذہ سے بھی مشورہ کریںااور دوستوں سے مختلف تجاویز بھی لیں، پھر ان تمام باتوں، مشوروں اور تجاویزمیں سے جو آپ کے دل کو لگیں،انہیں اپنے منصبوبے کے نکات میں شامل کر لیں اور پھر دل و جان سے اس منصوبے کو پایہ ءِ تکمیل تک پہنچانے کے لیے محنت کریں۔
  اگر آپ واقعی کسی منزل کی تلاش میں مندرجہ بالا نکات پہ عمل کرتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ کامیابی سے ہمکنار نہ ہوں۔یاد رکھیں کہ صرف محنت ہی کامیابی کی کنجی ہے،شیخ چلی کی طرح ہوائی قلعے تعمیر کرنے والوں کے ہاتھ محض رُسوائی کے اور کچھ نہیں آتا۔

Wednesday, 29 October 2014

بارود کے ڈھیر پہ اُگنے والے پھول

بارود کے ڈھیر پہ اُگنے والے پھول

یہ 2اکتوبر کی ایک سہانی دوپہر تھی۔پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں چہل پہل عروج پر تھی۔پاکستان کرکٹ ٹیم کو ٹی۔ٹونٹی ورلڈکپ میں اپنے گروپ کی ٹاپ آسٹریلیا سے اپنی بقاکی جنگ لڑنا تھی۔میچ پاکستانی وقت کے مطابق 3سہ پہرشروع ہوناتھا۔نمازِظہرکے بعد ہی سے کرکٹ کے دلدادہ حضرات ہاسٹلز کے ٹی۔وی رومز میں براجمان ہو چکے تھے۔میچ شروع ہواتو ٹی ۔وی رومز میں تِل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔طلبہ تھے کہ دروازوں سے جھانک رہے تھے۔میچ میں پاکستان کی کارکردگی کافی بہتر رہی اور میچ بآسانی 32رنز سے پاکستان نے جیت لیا،اس کے ساتھ ہی خوشی کی ایک خوش کُن لہر غیر محسوس انداز میں چہار جانب پھیل گئی لیکن یہ خوشی مکمل نہیں  تھی،ابھی سب کو انتظار تھااگلے میچ کا،جوکہ جنوبی افریقہ اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان کھیلا جانا تھا۔بھارت کی ٹیم اگر 31رنز سے میچ جیت جاتی تو پاکستان کی جگہ وہ سیمی فائنلز کے لیے کوالیفائی کر لیتی۔
جنوبی افریقہ اور بھارت کا میچ 7بجے شام کو شروع ہونا تھا۔ہاسٹلز کے دالانوں میں دلآویز شام اُتر چکی تھی ،پرندوں کی آخری ڈاریں بھی اِک ایک کر کے واپس لوٹنے میں مگن تھیں۔یونیورسٹی ہاسٹلز میں محفلیں دوبارہ جم چکی تھیں۔اُدھر میچ چلنا شروع ہوااور اِدھر نگاہیں  سکرینوں پہ تو دعائیں ہونٹوں پہ تھیں۔بھارت کی شکست کی دعائیں(یاشاید بد دعائیں) تھیں۔بھارت نے اس میچ میں پہلے بلے بازی کی ۔بھارتی اوپنر بلے باز نے چند اچھے شارٹس کھیلے،اِدھر ٹی۔وی رومز میں نعرے بلند ہوئےمیچ فکس لگتاہے“۔دو تین اورز کے اعصاب شکن ”انتظار“کے بعد بھارت کی پہلی وکٹ گری، جنوبی افریقہ کی ٹیم کے لیے دادو تحسین کے نعرے بلند ہوئے۔اس کے بعد یہی ہوتا رہا کہ کوئی بھی چوکا یا چھکا لگنے پر اظہارِافسوس ہوتا تو کبھی وکٹ گرنے پر خوشی و مسرّت کا بے پایا ں اظہار۔
بھارت نے 20اوورز میں 152رنز بنائے ۔جنوبی افریقہ کے لیے 153رنز کا ہدف تھا لیکن پاکستان کی لائف لائن 121رنز تھے یعنی بھارت کو سیمی فائنل میں رسائی کے لیے لازمی جنوبی افریقن ٹیم کو 121رنز یا اس سے قبل آٹ کرنا تھا۔جنوبی افریقن اننگز کا آغاز یوں ہوا کہ محض دوسری ہی گیند پر اوپنر ہاشم آملہ پویلین سدھار گئے۔ٹی۔وی سکرینز کے سامنے براجمان تماشائیوں نے پھر کچھ ناقابلِ اشاعت جملے جنوبی افریقن ٹیم کے حق میں بلند کیے۔جب 16رنز پہ دوسری اور30رنز پہ تیسری وکٹ گری توہر شخص کو یقین ہونے لگاکہ ”میچ فکس ہے“لیکن جنوبی افریقن مڈل آرڈر بلے باز”فان ڈوپلیسس“نے تیس ،چالیس منٹ کے کھیل میں میچ کا پانسہ ہی پلٹ دیا۔اب ایک مرتبہ پھر ہاسٹلز کے ٹی۔وی رومز میں تِل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔اب بھی نظارہ وہی تھا جو اس سے قبل کھیلے گئے پاکستان اور آسڑیلیا کے میچ کے دوران تھا بلکہ اس سے کچھ سِوا تھا۔80کے قریب رنز بن چکاتھااور اب تماشائی ہر گیند پر جنوبی افریقن کھلاڑیوں کو دل کھول کر داد دینے میں مصروف تھے۔ٹی۔وی اسکرینز پر جب بھی بھارتی کھلاڑیوں اور تماشائیوں کے مرجھائے ہوئے چہرے آتے،نعروں کا ایک طوفانِ بد تمیزی برپاہوجاتا۔فقرے اور آوازے برابر کَسے جارہے تھے۔
تھوڑی تگ و دو کے بعد جنوبی افریقن بلے باز 121رنز کا”ہدف“عبور کر گئے۔بس پھر کیا تھا، منچلے نوجوانوں نے ٹی۔وی اسکرینز کے آگے ہی بھنگڑا ڈالنا شروع کردیا۔آخری گیند تک یہ مقابلہ بھی دیکھاگیا،بدقسمتی سے جنوبی افریقہ ایک رَن کے فرق سے یہ میچ ہار گیالیکن گرنڈز میں اور ٹی۔وی اسکرینزکے سامنے مناظر دیدنی تھے۔ادھوری خوشی ،مکمل خوشگوار احساس بن کر غیر محسوس اندازکُن انداز میںہر کسی پہ طاری ہوئے جارہی تھی اورہاسٹلز میںپُرسکون رات نے ڈیرے ڈال دیئے تھے۔
یہ دو میچز کا آنکھوں دیکھا حال تھا،جو میں نے صرف اس وجہ سے بیان کیاہے کہ آج کے نام نہاد دانشوروں کو بتادوں کہ بھارت ہمارا روایتی اور ازلی حریف ہے۔تم دو قومی نظریئے کو چاہے کتنا ہی جھٹلا لو،ہر اہم واقعے کے بعد یہ ظہور پذیر ہوتا رہے گا،اپنے وجود کا احساس دلاتارہے گا۔بات یہیں  ختم نہیں  ہوتی ،ایگریکلچر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی مقبوضہ کشمیرمیں کشمیری مسلمان طلبہ نے پاکستان ٹیم کے سیمی فائنل میں کوالیفائی کرنے اور بھارت کے ہارنے پہ جشن کاسا سماں بن گیا،مسلم طلبہ نے پاکستان کے حق میںنعرے بلندکیے۔ہندو طلبہ اس پہ بپھر گئے اور مسلم طلبہ پہ حملے کی کوشش کی۔مندرجہ بالا واقعات کے تناظر میں ،مَیںنام نہاد دانشور طبقے سے پوچھنا چاہتاہوںکہ کیا انہیں  نظر نہیں  آتا کہ یہ سب کیا ہے؟کیا یہ اُن کے منہ پہ ایک طمانچہ نہیں  ہے ،یہ واضح اشارہ نہیں  ہے ان کے لیے، جو اپنے ذاتی خیالات کو اس قوم کا اجتماعی مقدر بنانے کی کوشش میں اس خطے کے معروضی حالات بھول جاتے ہیں ، وہ ہندو کی ازلی نیچ ذہنیت کو بھول کر دیتے ہیں ۔وہ اُن دس لاکھ شہداءکو فراموش کر دیتے ہیں  جنہیں  ہندو بنیئے نے پاکستان بنانے کی سزا کے طور پہ اس مٹی کی بنیادوں میں دفن کر دیاتھا۔اگردو قومی نظریہ اَن مٹ نہ ہوتاتو 1971ءکے خون آشام پس منظرمیں اندراگاندھی کو طنزاََ یہ نہ کہنا پڑتا کہ”آج ہم نے دو قومی نظریئے کو بحیرہءِ عرب میں ڈبو دیا ہے“۔
 23مارچ 2011ءکو شیرِبنگلہ اسٹیڈیم بنگلہ دیش میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین کرکٹ ون ڈے ورلڈ کپ کا سیمی فائنل تھا۔بنگالی،پاکستانی ٹیم کی شرٹس زیبِ تن کیے،پاکستانی پرچم اُٹھائے ، نعرے لگا رہے تھے۔پاکستانی ٹیم کے ہاتھوں ویسٹ انڈیز کی شکست کو انہوں نے اپنے زخموں کا مرہم جاناکیونکہ ویسٹ انڈیز نے چند روز قبل بنگلہ دیش ٹیم کو شکست دے کر ورلڈ کپ سے باہر کر دیاتھا۔
 24یا25مارچ کوایک دو مشہور کالم نگاروں کا کہناتھا کہ”23مارچ کو شیر بنگلہ اسٹیڈیم میں بنگالیوں کا پاکستانی ٹیم کے لیے والہانہ پن دیکھ یہ محسوس ہورہاتھا کہ دوقومی نظریہ ایک مرتبہ پھر بحیرہءِ عرب سے اُبھر رہاتھا“۔آج میں دوقومی نظریئے کے محافظوں کو یہ خوشی خبری سناتا ہوں کہ وہ دو قومی نظریہ جسے اندرا گاندھی کو بحیرہءِ عرب میں ڈبو دینے کازعم تھا،وہ پاکستان کے ہر طالب علم اور ہر باشعور انسان کے رَگ و پے میں سرایت کر گیا ہے۔اگر کسی کو میر ی بات کا یقین نہ ہو تو وہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر جا کر دو تین دن پہلے کے کمنٹس(Comments)کا جائزہ لیں ،انہیں  تسلی ہوجائے گی اور رہی بات ”روشن خیال“دانشوروں اور سیاست دانوں کی ،جوکبھی دوقومی نظریئے کی مخالفت کرتے ہیں ،کبھی سرحد کی ”لکیروں“کو مٹانے کی بات کرتے ہیں  اور کبھی قائد ِ اعظمؒ کو سیکولر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، انہیں  قائد ِاعظمؒ کے اس فرمان کو یاد رکھناچاہیے۔"مذہب،طرزِ معاشرت ،رہن سہن کے طور طریقے ، غرضیکہ ہر چیز میں مسلم اور ہندو الگ الگ قومیں ہیں  ،صرف ووٹ ڈالنے کی صندوقچی میں ہندو مسلم اکٹھے نہیں  ہو سکتے“اور اُن کا یہ کہا بھی اپنے پلو سے باندھ لیں کہ پاکستان تو اُسی دن وجود میں آگیا تھا جس دن ہندوستان کا پہلاہندومسلمان ہوا تھا....!
٭٭٭

Sunday, 21 September 2014

اَلمیہ

اَلمیہ

انسان بڑی عجیب شئے ہے۔دنیاکا کوئی بھی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ ”انسان“کو جان گیا ہے۔اس انسان نامی مخلوق کی فطرت بھی عجیب تر ہے۔یہ اپنے لیے مراعات کا طالب ہے،اپنے حقوق کے لیے لڑنے مرنے پہ تیار ہوجاتا ہے لیکن دوسروں کو مراعات دینے یا فرائض کی ادائیگی پہ قطعی تیار نہیں اور اس سے خود کو مبّرا سمجھتا ہے۔یہ اپنے لیے گناہوں کی معافی کا خواستگارہے لیکن دوسروں کے لیے ان کے اعمال کے عین مطابق سزا چاہتا ہے۔احمد ندیمؔ قاسمیؒ نے بجا فرمایا تھا:
اُٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر
عادی فنا کا تھاتو پجاری بقا کا تھا
چند دن قبل ہماری کلاس میں باتوں ہی باتوں میں مشرق اور مغرب میں عورت کے حقوق اور ان کے استحصال کا تذکرہ چل نکلا۔ایسے ہی کسی نے ملالہ یوسفزئی کا نام لیا ۔میرے دائیں جانب بیٹھا ہو ا طالب علم، جو اپنے موبائل پہ کچھ لکھنے دیکھنے میں مصروف تھا،یکدم چیخ کر بولا: ”نہیں نہیں ،وہ سب جھوٹ ہے ،ملالہ کے بارے میں سب جھوٹ چل رہا ہے،وہ سب جھوٹ تھا“۔میں اپنے ساتھی طالب علم کے اس رویے کو محض جذباتی پن سے زیادہ کوئی نام نہ دے سکا،تاہم کچھ دن اس ساری صورتحال کے بارے میں،میں ایک رائے قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ ہم بحثیتِ مجموعی ایک بے حد جذباتی قوم بن چکے ہیں۔ہم ذرا ذرا سی بات پہ بھڑک اُٹھتے ہیں اور کسی بھی عمل کے انجام سے غافل اور بے پرواہوکر وہ کر گزرتے ہیں،آگ میں کود پڑتے ہیں اورپھر صورتحال کی نازکی کا احساس ہونے پر شرمندہ ہونے کے بجائے دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے لگتے ہیں۔آپ اسی واقعے سے اندازہ لگالیجیے۔
    14سالہ ملالہ یوسفزئی،سوات کے شہر مینگورہ سے تعلق رکھتی ہے۔سوات میں 2009ءکے فوجی آپریشن سے پہلے جب مولوی فضل اﷲ کے حامی جنگجوایک بڑے حصے پہ قابض تھے اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کر دی گئی تھی تو ملالہ نے بے مثال جرات کامظاہرہ کرتے ہوئے بی بی سی کے لیے”گل مکئی“کے فرضی نام سے ایک ڈائری لکھی جس میں سوات اور اس کے گردو نواح میں طالبات کی تعلیم پر پابندی کے حوالے سے روا مظالم کی تصویر کشی کی ۔اس جرات ِبے مثل کے اعتراف کے طور پہ2011ءمیں ملالہ ”بچوں کے بین الاقوامی امن انعام“کے لیے نامزد ہوئی تو میڈیا کی نظریں اس پر پڑیں ،میڈیا کے دو بین الاقوامی اداروں نے اس پر دستاویزی فلمیں (Documentaries)بنائیں۔حکومتِ پاکستان نے بھی اسے نقد انعام اور ”قومی امن ایوارڈ“سے نوازا۔ملالہ قوم کی آنکھوں کا تارہ تھی پھر 09اکتوبر کی ایک قیامت خیز سہ پہر آن پہنچی ،09اکتوبر2012ءکو ملالہ سکول سے واپس گھر جا رہی تھی کہ اس کی سکول بس کو روک کر طالبان نے ملالہ کا پوچھااور اس پہ فائر کھول دیا۔ملالہ کے سر میں گولی لگی اور وہ شدید زخمی ہو گئی۔ملالہ کے ساتھ اس کی دو ساتھی طالبات بھی اس ستم زدگی کانشانہ بنیں اور ہاتھوں اور پاں پہ گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئیں۔پاک آرمی کے ہیلی کاپٹر میں ملالہ کو سی۔ایم ۔ایچ پشاور لایا گیا ،چند روز پاکستان کے متعدد ہسپتالوں میںزیرعلاج رہنے کے بعد تادم ِ تحریر وہ برطانیہ کے کوئین الزبتھ ہسپتال میں موت و حیات سے جنگ میں مصروف ہے۔
   پاکستان کے پڑھے لکھے طبقے کو ”بگاڑنے“میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”فیس بُک“کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔09اکتوبر کی شام سے ہی ملالہ پر حملے کی مذمت شروع ہوگئی تھی،10اکتوبر کا سارابھی فیس بُک پہ ملالہ کی حمایت اور طالبان کی مخالفت میں فیس بُک پر پیغامات کی بھرمار رہی ۔مزید ایک دو دنوں میں ملا جلا رحجان رہا۔پہلے پہل تو یہ سوال اُٹھایا گیا کہ کیا صرف ملالہ ہی قوم کی بیٹی تھی ؟ اس کے ساتھ زخمی ہونے والی شازیہ اور کائنات کا کیا قصور ہے کہ حکومت انہیں کسی اچھے ہسپتال میں نہیں لائی؟پھر میڈیا کو موردِالزام ٹھہرایاگیاکہ وہ ڈرون حملوں میں مرنے والوں کی کوریج نہیں کرتا لیکن مغربی ایما پر گستاخانہ خاکوں کا معاملہ دبانے کے لیے ملالہ والے واقعے کو حد سے زیادہ اُچھال رہا ہے۔کچھ ”عقلِ کل“ قسم کے لوگوں میں سے بعض نے اس واقعے کا سہا را لے کر کشمیر اور افغانستان میں جاری جہاد کو بدنام کیا اور بعض نے میڈیا کو یہودونصاریٰ کا ایجنٹ قرار دیا۔فیس بُک پہ جاری اس ”خانہ جنگی“کا نتیجہ یہ نکلا کہ قوم کی ایک معصوم بیٹی پر حملے جیسے سفاکانہ فعل پر بھی پڑھا لکھا طبقہ تقسیم ہوچکا ہے۔ایک ملالہ کی حمایت میں کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہے اور دوسرا میڈیا اور امریکہ سے حد درجہ متنفر ہے اور اس سارے واقعے کو ”ڈرامہ “سمجھتا ہے۔
  میں نہیں جانتا کہ سچ کیا ہے لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اسلام تو میدانِ جنگ میں ”دشمن“کی عورتوں پر بھی حملہ کرنے سے روکتا ہے،ان کی تکریم کادرس دیتا ہے اور ملالہ نہ تو دشمن تھی اور نہ ہی غیر مسلم۔ملالہ پر حملہ کرنے والے ٹارگٹ کلرز ہوں یا کسی اور انتقامی بھٹی میں تیار کیے گئے جنگجو،وہ مسلمان نہیں ہوسکتے،اگر وہ مسلمان ہوتے توکیا یہ نہ جانتے ہوتے کہ”اصل مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں“۔اگر بالفرض دوسرے گروہ کی بات مانتے ہوئے اس سب کو امریکہ کاشمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی راہ ہموار کرنے کے لیے رچایاہوا ڈرامہ سمجھ لیں تو پھر ہمیں مزید محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔اگر واقعتا ایسا ہے تو قوم کو اپنی ”ملالاں “ کی حفاظت کے یکجا ہونے اور اتحاد و اتفاق سے دشمن کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے لیکن فیس بُک پہ پیغامات دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے اگر یہ واقعی امریکی سازش تھی توہم اس سازش کا شکار ہوتے ہوئے دو حصوں میں بٹ چکے ہیں ۔
  اس اَمر میں حالات کو سنگین بنانے میں وہ لوگ بھی برابر کے شریک ہیں جو بغیر تحقیق اور تصدیق کوئی بھی پیغام دوسروں تک جلدی پہنچانے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔میں سمجھتاہوں کہ اگر آپ کو سچ کا علم نہیں ہے،آپ میڈیاکو قابلِ اعتنا نہیں سمجھتے تو پھر بہتر ہے کہ چپ بیٹھے رہیں کم از کم اس وقت تک جب تک کہ آپ کو کسی قابلِ اعتماد ذرائع سے مستند خبر نہیں ملتی،خدارا خود خبریں ”بنانے“سے گریز کریں۔ہمیں خود ہی طرح طرح کے قیاس گھڑنے اور اپنے من چاہے فلسفوں کی ترویج سے قبل سوچنا چاہیے کہ یہ ایک معصوم زندگی کا مسئلہ ہے۔ہمیں اپنی عقل کے گھوڑوں کو بے لگام دوڑانے کی بجائے انہیں کسی اور وقت کے لیے سنبھال رکھنا چاہیے۔یاد رکھیے کہ دنیا میں دس فیصد جھگڑے اختلافِ رائے کی وجہ سے ہوتے ہیں اور باقی کے نوے فیصداس لہجے (اور ردّ عمل )کی وجہ سے جو ہم بحث میں اختیار کرتے ہیں۔
(نوٹ: یہ کالم ملالہ یوسف زئی پہ حملے کے کچھ عرصہ بعد لکھا گیا تھا)
٭٭٭

Friday, 19 September 2014

”جسے آشناؤں کاپاس تھا،وُہ وفاشعار چلاگیا“-آخری حصہ

”جسے آشناؤں کاپاس تھا،وُہ وفاشعار چلاگیا“-آخری حصہ

  ہشتم میں ہمارے ریاضی کے لیکچرر کی ایک ہفتے کی چھٹی کے دوران سر مجیب نے ہمیں ”ہشتم -اے“کے ساتھ ریاضی بھی پڑھائی ، جیومیٹری کی مشکل اشکال اُنہوں نے اَحسن اَنداز میں ہمیں سمجھا دیں ۔ہشتم میں ہمارا امتحان بورڈ کا تھا۔سر مجیب نے ہشتم کے تینوں سیکشنز میں جاکر اعلان کیا کہ اِس بار جو طالبعلم تینوں سیکشنز میں مجموعی طور پر پہلی تین پوزیشن حاصل کریں گے،وہ اُنہیں خصوصی انعام دیں گے۔امتحانات ہوئے ،نتیجہ نکلا تو میں پہلی پوزیشن کاحقدار قرار دیا گیا۔ہماری نہم کی کلاسزشروع ہوئیں ،ختم ہوگئیں مگر میں اُس انعام کا منتظر رہاجس کا اعلان سر مجیب نے کیا تھالیکن وہ نہ ملا۔بہت عرصہ بعد جب میں نے اُس خصوصی انعام کے بارے میں سوچاتو مجھے اِدراک ہوا کہ وہ خصوصی انعام تو اُ ن کی محبت تھی جو مجھے دیکھ اُن کی آنکھوں سے جَھلکتی تھی ،جو اُنہیں سامنے مُسکراتاپا کر میری رُوح تک کو سر شار کر دیتی تھی۔ہاں!بھَلا محبت سے بڑااور خصوصی انعام ایک ادنیٰ شاگرد کے لیے ،ایک اعلیٰ اُستاد کی طرف سے اَور کیا ہوگا؟اِس کے سِوا بھی کوئی چیزدرکار ہوگی کسی طالبعلم کو؟نہیں ،ہر گز نہیں!!!
  اﷲتعالیٰ نے میٹرک میں بھی مجھ بے خانماں پر اپنا کرم کیا اور میں امتیازی نمبر لے کر پاس ہوا۔اساتذہ سے مشورے کے بعد میں نے کلر کہار کے ایک پرائیویٹ کالج میں داخلہ لے لیا۔کالج اور ہاسٹل کی فیس میرے لیے بہت زیادہ تھی ۔میرے امتیازی نمبروں کو دیکھتے ہوئے کالج انتظامیہ نے کچھ ”رعایت“کی اور ٹیویشن فیس معاف کردی لیکن ہاسٹل کے لیے بھی تین ہزار روپے ماہانہ اَدا کرنابھی میرے لیے اِتنا آسان نہ تھا۔ایسے میں سر مجیب آگے بڑھے اور اُنہوں نے مجھے ایک ہزار روپے ماہانہ دینے شروع کردیئے اور تب تک دیتے رہے جب تک کہ سالِ دوم کے دوران میرے سالِ اوّل کے سالانہ امتحانات کانتیجہ نہیں آگیاجس میں اعلیٰ کارکر دگی پر کالج انتظامیہ نے میری ہاسٹل فیس بھی معاف کر دی لیکن کیا کہنے سر مجیب کے خلوص کے،کہ اِ ن ڈیڑھ دو برس میں مجھے قطعی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ یہ روپے مجھے وہ دے رہے ہیں،وہ ایک اور اُستاد کے توسط سے یہ سب مجھ تک پہنچاتے رہے اور صرف مجھی پرکیا منحصر،ہمارے علاقے میں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں ایسے طالبعلم موجودہیں ،جن کی بلواسطہ یا بلا واسطہ مالی مدد سر مجیب کر رہے تھے۔بعض اوقات تومجھے یوں لگتا ہے کہ اگر خدمت ِخلق ہی ولایت کاواحد پیمانہ ہے تو پھر اُن سے بڑا ”وَلی“میں نے آج تک نہیں دیکھا۔
   FScکے بعد میں نے انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لیے انٹری ٹیسٹ کی تیاری کا سوچا۔اساتذہ سے مشورہ کیا،
قرعہ فال KIPSراولپنڈی کے نام نکلا۔میرے والد میرے ساتھ پیسے لے کر ہائی سکول پہنچے جہاں میرے چند اساتذہ موجود تھے،
سر مجیب نے مجھے راولپنڈی اکیڈمی اور ہاسٹل چھوڑنے جاناتھا۔ہم سب سکول کے گرانڈمیں جمع تھے کہ باہر روڈ سے کسی بارات کے گزرنے کی آوازیں لگیں،سر مجیب نے مُسکراتے ہوئے میری جانب دیکھا”بیٹا!پہلے پڑھائی،اعلیٰ مقام اور پھر یہ.....“،اُن کا اشارہ سمجھ کر میں کسمسا کر رہ گیاجبکہ باقی لوگوں نے ایک قہقہہ بلند کیا۔اِسی طرح ہنستے مسکراتے انہوں نے راولپنڈی KIPSمیں میرا داخلہ کرایا،پھر ہاسٹل دلوایا۔اکیڈمی اگلے روز کے لیے بند تھی ،سو، میں اُن کے ساتھ واپس گھر آگیا۔اگلے دن صبح جب میں گاڑی میں بیٹھا توسر مجیب بھی وہاں آ پہنچے،انہو ں نے بقایا رقم میرے حوالے کی ”بیٹا!کل آپ کے ابو نے جو پیسے دیئے تھے ،اُن میں سے یہ بچ گئے تھے“میں بے ساختہ اُن کے گلے لگ گیا،انہوں نے شفیق بزرگوں کی طرح دُعادی اور گاڑی راولپنڈی کی طرف چل دی۔
  راولپنڈی ہاسٹل میں پانی کمیاب تھا۔شدید گرمی بھی تھی ،چند ہفتوں بعد میں شدید بیمار ہو کر گھر آگیا۔سر مجیب کو خبر ہوئی تو اُنہوں نے رات کے وقت ہی مجھے فون کیا ،خیریت دریافت کی ،میں نے بتایاکہ اب بہتر ہوں ۔اُنہوں نے مجھے اپنے راولپنڈی والے گھر رہائش کی پیشکش بھی کی ،میں نے شکریئے کے ساتھ معذرت کر لی لیکن اُن کا یہ بے پناہ خلوص ہمیشہ میرے ہمقدم رہا۔ میں اِس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ مجھ ناچیز نے جو بھی چند کامیابیاں حاصل کیں ،اُن میں سر مجیب کے پیار ،محبت اور خلوص کابرابر کا حصّہ ہے۔اُن سے وابستہ یادیںمیرے دل کے دریچوں میںہمیشہ جگنو بن کراس کو جگمگاتی رہیں گیااور میری زندگی میں بھی تاابد اُجالا سااُجالا بکھیرتی رہیں گی۔
  کالج کے دَور میں یا اِس کے بعدبھی جب کبھی میں اُن کوسکول میں ملنے گیا،اُن کی اپنائیت اور محبت میں پُور پُور ڈوباواپس آیا۔
بوقت ِرُخصت،نئے کپڑے تو کبھی نئے سویٹر میرے ساتھ ہوتے۔نجانے یہ قدرت ،یہ مقدر ہمیشہ سے اُن اِنسانوں کے تعاقب میں کیوں رہے ہیںجو انسان کی مکمل اور حقیقی تصویر اور انسانیت پر مان کی وجہ ہوتے ہیں۔شاید بڑے بوڑھے درست ہی کہتے ہیں کہ اَچھے اور نیک اِنسان کی ”وہاں“ بھی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔اِس سال (2012ء)میں میٹرک کے امتحانات میں ان کی پریکٹیکل لینے کی ڈیوٹی چکوال کی تحصیل چوآسیدن شاہ میں لگائی گئی۔ایک سہ پہر کو وہ اپنے ڈرائیور اور ایک دوسرے دوست اُستاد کے ساتھ وہا ں سے واپس آرہے تھے کہ کوئی موڑ مڑتے ہوئے ایک ٹرک اچانک سے گاڑی کے سامنے آگیا۔ڈرائیور نے بہت کوشش کی لیکن گاڑی کو نہ بچاپایا۔سر مجیب ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے تھے۔ڈرائیور اور دوسرے اُستاد کا بال تک بیکا نہ ہوالیکن سر مجیب اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے،اِنَّاﷲ ِوَ اِنَّااِلَیہ ِرَاجِعُون۔
  اُن کی رِحلت کے کچھ عرصہ بعد فاتحہ خوانی کے لیے اُن کے گھرجاناہواتو اُن کے ضعیف والد سے ملاقات ہوئی جوفالج کے مریض ہیں،اُن کی آنکھوں کے گوشے بار بار بھیگے جارہے تھے ۔اُنہوں نے بتایاکہ وہ اعلیٰ اَوصاف شخص ،جو اَب ہم میں نہیں رہا،اَبھی تک راہِ علم میں گامزن تھا۔ایم-اے مطالعہ پاکستان کر چکنے کے بعد اب شاید وہ ایم -اے اُردو یاایم-اے اِسلامیات کی تیاری کر رہے تھے۔”گود سے گور تک علم حاصل کرو“کا سب سے اعلیٰ مظہر بھی بھَلا سر مجیب کے علاوہ اَور کون ہو سکتا تھا۔اُن کے بڑے بھائی سے بھی ملاقات ہوئی،انہوں نے سر مجیب کے بارے میں جو جملہ کہا ،وہ میر ے دل پر نقش ہو کر رہ گیاہے:”وہ ،مجھ سے چھوٹا تھا لیکن اَب معلوم ہوا ہے کہ وہ تو بہت بڑا تھا،ہم سب سے بڑا،چھوٹے تو ہم ہیں“....

Thursday, 18 September 2014

”جسے آشناؤں کاپاس تھا،وُہ وفاشعار چلاگیا“-حصہ دوم

”جسے آشناؤں کاپاس تھا،وُہ وفاشعار چلاگیا“-حصہ دوم

   پرائمری سکول پاس کرنے کے بعد جب میرا داخلہ ہائی سکول میں ہوا ،جو ہمارے پرائمری سکول کے بالکل سامنے ہی ،سڑک پار واقع تھاتو قریباََ ایک سال تک سر مجیب کو ہماری کوئی کلاس نہ دی گئی البتہ ساتویںجماعت میں جب اُنہوں نے پہلے دن ہمیں سائنس پڑھانے کے لیے ہمارے کمرہ ءِجما عت میں قدم رکھا تو میں بے ساختہ کِھل ہی تو اُٹھا تھا۔سر مجیب نے پہلے لیکچر میں ہمیں ”جانوروں کی حرکت اور پودوں کے جمود“سے متعلق وہ دلچسپ مثالیں دیں کہ ساری کلاس بے ساختہ کھلکھلاکھلکھلا کر ہنستی رہی ۔اُس دن مجھے احساس ہوا کہ سر مجیب ہر عمر کے بچوں کے مزاج کے مطابق پڑھانے کا نہ صرف سلیقہ رکھتے ہیں بلکہ ہر عمر کے بچوں کے مزاج کے بہت سارے لطیفے ہر وقت اُ ن کے پاس موجود رہتے ہیں ،جس کی وجہ سے وہ کبھی کسی بچے کو بوریت کا شکار نہیں ہونے دیتے۔
   جماعت ہفتم میں تو اُنہوں نے واقعی سائنس پڑھانے کاحق اَدا کر دیا۔دل کی ساخت جیسامشکل موضوع انتہائی زیرک پن اور باریکی سے قریباََ کوئی ڈیڑھ ماہ تک ہمیں سمجھاتے رہے۔تختہ ءِسیاہ پر تصاویر بنائیں ،ہسپتالوں سے دل کے ماڈل لا لا کر دکھائے اور ایساپڑھایاکہ بس جیسے حفظ ہی کرا ڈالا۔سر مجیب بنیادی طور پر ریاضی کے لیکچرر مشہور تھے۔وہ آمدِسرما کے دن تھے،سارا آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا،فرش تا عرش بوندا باندی نے ایک سفید ململ کی چادر سی تان رکھی تھی۔میں ہفتم جماعت کا مانیٹر تھا۔کسی کام سے سٹاف روم کی طرف جاناہواتو کیا دیکھتا ہوں کہ سر مجیب اور سر فاروق (جو عربی کے لیکچرر تھے)بڑی شدّومد سے کسی بحث میں مصروف ہیں ،مجھے معلوم نہیں پڑ رہا تھاکہ موضوعِ گفتگو کیا ہے،اِپنے میں سر مجیب نے ایک دُور کھڑے اُستاد کو پُکار کر کہا”جناب!فاروق صاحب کہہ رہے ہیں کہ آخرت میں عربی ہوگی جبکہ میں کہتاہوں کہ حساب ہو گا،اب آپ ہی بتائیں کہ روزِمحشر عربی ہوگی یا حساب؟“میں اُن کی اِس بات پر بے ساختہ مسکرا اُٹھا اور دل ہی دل میں سوچا کہ ”آخرت میں ہو گا تو حساب لیکن عربی میں “۔
   میرے سر مجیب سے ”یارانے “ کا یہ دوسرا دَور تھا۔ہفتم کے سالانہ امتحانا ت قریب تھے ،اُس وقت تک میں سر مجیب کی نظروں میں ایک امتیازی طالبعلم کی حیثیت حاصل کر چکا تھا۔سر مجیب نے ہمیں کافی دن پہلے ہی سلیبس مکمل کرا دیا تھااور اب وہ ہمیں روزانہ کچھ نہ کچھ موضوعات یاد کرنے کے لیے ہوم ورک کے طور پر دیتے تھے۔ایک دو انشائیہ سوالات کے ساتھ ساتھ ہر باب کے آخر میں دیے گئے دس پندرہ معروضی سوالات بھی روزانہ تیار کرنے کو دیئے جاتے ۔وہ معروضی سوالات میں کسی غلطی کے رَوادار نہ تھے لیکن گزشتہ دن کا سبق اُنہوں نے کبھی نہیں سُنا۔کتاب مکمل ہونے سے ایک دو دن پہلے ایسا ہوا کہ میں بھونچکا رہ گیا۔اُس دن ایسا ہوا کہ اُنہوں نے انشائیہ سوالات چیک کرنے کے بعدمعروضی سوالات سُننے شروع کر دیئے۔وہ ہر ایک سے دو ،دو معروضی سوالات سُنتے،درست ہونے پر شاباش اور غلط ہونے پر سزا دیتے ،میرے پاس آپہنچے ۔اِتفاق سے میں آخر میں کھڑا تھا،اُنہوں نے ایک سوال پوچھا،میں نے جواب دیا۔دوسرا،پھر تیسرا،وہ ایک ایک کر کے سوالات پوچھتے رہے،میں جواب دیتا رہا۔انہوں نے خلاف ِمعمول کئی گزشتہ ابواب کھنگال ڈالے ،میں کئی ایک سوالات پر لڑکھڑایا،گھبرایالیکن اُن کے ہاتھ میں لہراتی لاٹھی دیکھ کر فَر فَر جواب دیتارہا۔بالآخرانہوں نے کئی ابواب کی ”دُہرائی“ کرانے کے بعد ایک ”اُچٹتی“ نگاہ مجھ پر ڈالی،اَگلے دن کے لیے سبق دیا اور یہ جا وہ جا،کلاس سے نکل گئے۔میں کافی دیر تک پسینے میں شرابور وہیں کھڑا سر کے اِس ” عجیب“رویے ّ پر غور کرتارہا،کافی عرصہ تک جب بھی یہ واقعہ میرے ذہن میں اُبھرتا،میں ایک عجیب شش وپنج میں مبتلا ہو جاتاکہ سر نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟وہ تو بعد میں کہیں جاکر سمجھ   میں آیاکہ :
مکتبِ عشق کا دَستور نرالا دیکھا
اُس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
جماعت ہفتم میں امتیازی نمبروں سے پاس ہو کر میں ہشتم جماعت میں آگیا۔ہشتم میں ہماری کوئی بھی کلاس سر مجیب کو نہ دی گئی لیکن اتفاق سے ہمارے سائنس ٹیچر اُن دنوں ہیپا ٹائٹس-سی میں مبتلا ہوکر تین ماہ کی طویل رُخصت پر چلے گئے۔میں ہشتم کے ”سی -سیکشن“میں تھا۔ہشتم جماعت کے ”بی -سیکشن“کو سائنس سر مجیب پڑھاتے تھے ۔ایک اتفاقاََ سائنس کی کلاس کے دوران میرا ہشتم-بی میں جانا ہوا تو سر مجھے دیکھتے ہی مُسکرائے”ہاں بیٹا!بتا،تم لوگوں نے سائنس کا کتنا سلیبس پڑھ لیاہے؟“میں نے بھی مُسکراتے ہوئے اُنہیں اِس بات سے آگاہ کیاکہ ہم نے تو اَبھی کچھ بھی نہیں پڑھاکیونکہ ہمارے سر بیمار ہو کر چھٹی پر چلے گئے ہیں اور پھر میں نے وہ سُنا کہ جس کی مجھے ہر گز اُمید نہ تھی کیونکہ ہمارے سرکاری سکول میں تو مختلف سیکشنز کے وہ اساتذہ جو ایک ہی مضمون پڑھاتے تھے،اُن میں ایک سخت ”رقابت“کا عنصر پایا جاتاتھالیکن یہ بھی سر مجیب کا ہی خاصہ تھا کہ اُ نہوں نے مجھے حُکم دیا کہ کل سے سائنس کی کلاس میں پورا ”سی-سیکشن“ہشتم-بی کی کلاس میں آکر سائنس پڑھے گا۔ہمارے سر کی واپسی تک اُنہوں نے ہمیں چاریاپانچ ابواب پڑھائے ،اُنہوں نے کلاس ٹیسٹوں میں بھی ہمارے سیکشن کو اپنے سیکشن کے ساتھ ساتھ رکھااور کسی قسم کا کوئی امتیاز رَوا نہ رکھا۔
  میری سبز آنکھیں دیکھی تو سبھی نے تھیں لیکن جیسی” داد“ سر مجیب نے دی ،ویسی کسی نے نہ دی ۔ہشتم کے شروع میں اُنہوں نے سبز آنکھوں کی وجہ سے مجھے ”بِلّا“کا لقب دے ڈالا،ہشتم کا پورا سال اور نہم کے آدھے سال تک میں اُن کے لیے ”بِلّا“ہی رہا۔جماعت ہشتم میں گرمیوں کی چھٹیوں میں اُنہوں نے ایک مقابلہ منعقد کرایاکہ چھٹیوں تک ہم نے سائنس کا جو سبق بھی پڑھاہے وہ ایک نئی نوٹ بُک پہ لکھ کر لانا ہے اور ساتھ میں تمام ڈایا گرامز بھی لیبل کر کے لانی ہیں ۔چھٹیاں ختم ہوئیں تو اُن کے ”بی-سیکشن“میں سے کوئی آٹھ یا دس طلباءنے اپنی کاپیاں اِس مقابلے کے لیے پیش کر دیں ۔سر مجیب خود چل کر میری کلاس میں میرے پاس آئے اور مجھ سے میری کاپی مانگی،میں نے کاپی اُن کو دے دی۔ہمارے ٹیچر واپس آچکے تھے لیکن اُنہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ ہماری کلاس چھٹیوں سے پہلے والی روٹین پر ہی چلتی رہے اور آخری چند ابواب وہ دونوں سیکشنز کو اسی طرح پڑھا دیں گے جیسے سر مجیب ابتدائی ابواب پڑھا رہے تھے۔بہر حال ،اگلے دن دونوں ٹیچر ”ہشتم-بی“میں اکٹھے تھے،ہم سب بھی وہیں تھے ۔سر مجیب نے سر ظفر کو کوئی سر گوشی کی اور اُنہوں نے بلند آواز میں سر مجیب کی طرف سے منعقدہ مقابلے کے نتائج کا اعلان کیاجس میں مجھے پہلی پوزیشن کا حق دار قرار دیا گیا۔میری کاپی میں سر مجیب کی طرف سے دیئے گئے تیس روپے تھے اورکاپی کے سَر ورق پر اُنہی کے ہاتھوں سے لکھا گیا ایک جملہ جگمگا رہا تھا:”بِلّا بازی لَے گیا“.... (جاری ہے)