اعتماد کی دولت سے مالا مال لوگ ہمیشہ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہیں ان کا سیدھا سادہ موقف ہوتاہے کہ اگرآپ کو اپنے آپ پر بھروسہ نہیں ہے تو پھر دوسرے لوگ کس طرح آپ پر اعتماد کریں گے۔ پُراعتماد لوگ کس طرح اپنے آپ کو مختلف شکوک و شبہات سے دور رکھتے ہیں اور کن باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔آئیے جانتے ہیں۔
1- معذرت نہیں کرتے بہت پراعتماد لوگ اپنے خیالات کے پہریدار ہوتے ہیں اور اپنے تمام اعمال کے جواب دہ بھی۔ انہیں اپنی کسی حرکت پر کوئی شرمندگی یا پچھتاوا نہیں ہوتا۔ جیسے اگر وہ لیٹ ہو جائیں تو اس کی ذمہ داری ٹریفک کے ہجوم پر ڈالنے کی بجائے اس بات پر سوچیں گے کہ اگر میں گھر سے بیس منٹ پہلے نکل آتا تو اس کو فت سے بچ سکتا تھا۔ ایسے لوگوں کے پاس ایسے بہانے بھی نہیں ہوتے جس میں وقت کی کمی کا رونا روئیں یا قسمت کو کوسیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہر بات کی ذمہ داری لینے والے مثبت انداز میں سوچنے والے اور دوسروں میں کپڑے نکالنے کی بجائے خود کی اصلاح کرنے والوں کی ڈکشنری میں معذرت کا لفظ نہیں ہوتا۔ اور یہ اعتماد ہی ہے جو آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ جہاں آپ کو کبھی بھی غلطی کرنے کا رسک نہیں لینا پڑتا اور اگر غلطی کی تو معذرت کیسی!
2- کسی سے نہیں ڈرتے اعلیٰ اعتماد کے حامل لوگ کسی اندیشے یا خوف میں مبتلا نہیں ہوتے۔ انہیں اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ ایسا ہوجائے تو کیا نتیجہ نکلے گا اور ایسا نہ کیا گیا تو کیا نقصان ہوگا۔ وہ نتائج اور نقصانات کی پروا کئے بغیر آگے بڑھتے ہیں۔ اس نکتہ کی وضاحت کیلئے ایک مثال دی جا سکتی ہے کہ فرض کریں کسی شخص کو یہ اندیشہ ہو کر وہ نوکری سے فارغ ہو جائے گا تو پراعتماد لوگ اپنی نوکر ی کی برخواستگی کی خبر سن کر پرسکون رہیں گے ۔ اگلے ہی لمحے ان کے ذہن میں یہ سوچ آ جائے گی کہ مجھ میں صلاحیتیں موجود ہیں۔ لہٰذا مجھے نوکری کا کوئی مسئلہ نہیں ہے کہیں بھی مل جائے گی۔
3- آرام دہ زون سے دوررہتے ہیں پریقین لوگ ہمیشہ خود کو آرام دہ ایریا سے دور رکھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہی گرے ایریا ہے جہاں خواب ختم ہو جاتے ہیں۔ اس لئے وہ زیادہ سے زیادہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی مشکل گھڑی سے لڑتے رہیں اوران کی صلاحیتوں کا امتحان ہوتا رہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ مشکلیں دراصل ان کی کامیابی کا دروازہ ہوتی ہیں ان پر قابو پالیا جائے تو کامیابی کے دروازے ان کے لئے کھل جاتے ہیں۔
4- چیزوں کو التوا میں نہیں ڈالتے آج کا کام کل پر مت چھوڑیں یہی کامیابی کا راز ہے۔ پراعتماد لوگ کہتے ہیں کہ اپنی ناکامی اور کامیابی کا موازنہ کسی اور سے کرنے کی بجائے اس منصوبے کو زیادہ بہتر بنانے پر توانائیاں خرچ کرنا چاہیے۔ جو گھوڑے تنگ سپاٹ نظر آتے ہیں وہ ہی کامیاب ہوتے ہیں اور بھاگتے ہوئے دوسرے گھوڑے کی رفتار پرنظر رکھنے والا ہمیشہ پیچھے رہ جاتا ہے۔وہ اس بات کی مجسم تصویر ہوتے ہیں کہ جو کام کرنا ہے وہ کرنا ہے اور پھر دوسرے کام کے بارے میں سوچنا ہے۔ انہیں نہ تو درست وقت اور ماحول کا انتظار ہوتا ہے اور نہ ہی وہ خود ساختہ امیدوں کے سہارے ڈھوندتے رہتے ہیں۔وہ ہمیشہ عملی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔
5- دوسروں کی باتوں پر کا ن نہیں دھرتے اعتماد والے لوگوں کو یہ ایڈوانٹیج ہوتا ہے کہ وہ کسی تبصرے اور رائے پر قطعاً دھیان نہیں دیتے اور خاص طور پر اپنے بارے میں منفی رائے تو ہمیشہ جوتے کی نوک پر لکھتے ہیں، چونکہ ا نہیں اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ ہوتا ہے اسی لئے انہیں اس بات کی ضرورت ہی نہیں ہوتی کہ کوئی ان کی تعریف کرکے ان کے کسی عمل کو سراہے۔ وہ اپنی مرضی سے جیتے ہیں اور اپنی مرضی سے ہی اپنے ارد گرد کا ماحول ترتیب دیتے ہیں۔ کسی کی رائے ان کے لئے محض ایک مشورے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ وہ اپنے نفع اورنقصان کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں۔ لہٰذا کوئی کون ہوتا ہے ان معاملات میں مداخلت کرنے والا۔
6- لوگوں کو نہیں پرکھتے عام مشاہدے کی بات ہے کہ وہ لوگ ہمیشہ دکھی ہوتے ہیں جو دوسروں سے زیادہ توقعات وابستہ کیے بیٹھے ہوتے ہیں اور جب توقعات کا آئینہ کرچی کرچی ہوتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سارے خواب ہی بکھر گئے۔ ان لیکن پراعتماد لوگوں کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی پروا نہیں کرتے اور نہ ہی کسی سے کوئی توقع وابستہ کرتے ہیں ۔ لہٰذا یہ کہاجا سکتا ہے کہ وہ لوگوں کو پرکھتے ہی نہیں۔
7- وسائل کی کمی کا رونا نہیں روتے بہت سے لوگ اپنی کامیابیوں کی راہ میں وسائل کے نہ ہونے کا سبب بیان کرتے ہیں لیکن اعتماد کی دولت کے حامل لوگ اس بہانے سے ہمیشہ کوسوں دو رہوتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہر طلب اپنی رسد خود پیدا کرتی ہے۔ لہٰذا اگر کچھ کرنے کی ٹھان لی جائے تو پھر وہ کام ہو کر رہتا ہے اس کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹیں عارضی ہوتی ہیں آپ اس یقین سے آگے بڑھتے جائیں کہ آپ کی صلاحیتیں آپ کے لئے مددگار ثابت ہونگی۔
9- لوگوں کو خوش کرنے کا ایجنڈا نہیں ہوتا پراعتماد لوگوں کی اہم مصروفیات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کو خوش کرنے کی غرض سے کچھ بھی نہیں کرتے۔ ان کا اپنا ایجنڈا ہوتا ہے اور اس کے حصول کیلئے وہ تن من دھن صرف کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ ان کے پیش نظر ان کی کامیابی ہی ان کے سکون کا باعث ہوسکتی ہے ۔
10- زندگی کی تلخیوں کو نظرانداز نہیں کرتے ایک عام رائے ہے کہ پرامید اورپر اعتماد لوگوں کو زندگی کی تلخیاں اور سختیاں اس قدر نظر نہیں آتیں،جتنی کہ ان کا رونا کئی لوگ روتے ہمیں اپنے ارد گرد مل جاتے ہیں۔ وہ ان مصیبتوں اور مشکلات سے انکارنہیں کرتے جو راہ میں آ جائیں بلکہ لیکن ان مشکلات سے ہی اپنے لئے کامیابی کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مصیبت آئے تو تجزیہ کرو اور اس کی جڑیں پھیلنے سے قبل ہی کاٹ ڈالو۔
تحریر: عبدالستّار ہاشمی
بشکریہ: دُنیا نیوز
No comments:
Post a Comment