Thursday, 18 September 2014

”جسے آشناؤں کاپاس تھا،وُہ وفاشعار چلاگیا“-حصہ دوم

”جسے آشناؤں کاپاس تھا،وُہ وفاشعار چلاگیا“-حصہ دوم

   پرائمری سکول پاس کرنے کے بعد جب میرا داخلہ ہائی سکول میں ہوا ،جو ہمارے پرائمری سکول کے بالکل سامنے ہی ،سڑک پار واقع تھاتو قریباََ ایک سال تک سر مجیب کو ہماری کوئی کلاس نہ دی گئی البتہ ساتویںجماعت میں جب اُنہوں نے پہلے دن ہمیں سائنس پڑھانے کے لیے ہمارے کمرہ ءِجما عت میں قدم رکھا تو میں بے ساختہ کِھل ہی تو اُٹھا تھا۔سر مجیب نے پہلے لیکچر میں ہمیں ”جانوروں کی حرکت اور پودوں کے جمود“سے متعلق وہ دلچسپ مثالیں دیں کہ ساری کلاس بے ساختہ کھلکھلاکھلکھلا کر ہنستی رہی ۔اُس دن مجھے احساس ہوا کہ سر مجیب ہر عمر کے بچوں کے مزاج کے مطابق پڑھانے کا نہ صرف سلیقہ رکھتے ہیں بلکہ ہر عمر کے بچوں کے مزاج کے بہت سارے لطیفے ہر وقت اُ ن کے پاس موجود رہتے ہیں ،جس کی وجہ سے وہ کبھی کسی بچے کو بوریت کا شکار نہیں ہونے دیتے۔
   جماعت ہفتم میں تو اُنہوں نے واقعی سائنس پڑھانے کاحق اَدا کر دیا۔دل کی ساخت جیسامشکل موضوع انتہائی زیرک پن اور باریکی سے قریباََ کوئی ڈیڑھ ماہ تک ہمیں سمجھاتے رہے۔تختہ ءِسیاہ پر تصاویر بنائیں ،ہسپتالوں سے دل کے ماڈل لا لا کر دکھائے اور ایساپڑھایاکہ بس جیسے حفظ ہی کرا ڈالا۔سر مجیب بنیادی طور پر ریاضی کے لیکچرر مشہور تھے۔وہ آمدِسرما کے دن تھے،سارا آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا،فرش تا عرش بوندا باندی نے ایک سفید ململ کی چادر سی تان رکھی تھی۔میں ہفتم جماعت کا مانیٹر تھا۔کسی کام سے سٹاف روم کی طرف جاناہواتو کیا دیکھتا ہوں کہ سر مجیب اور سر فاروق (جو عربی کے لیکچرر تھے)بڑی شدّومد سے کسی بحث میں مصروف ہیں ،مجھے معلوم نہیں پڑ رہا تھاکہ موضوعِ گفتگو کیا ہے،اِپنے میں سر مجیب نے ایک دُور کھڑے اُستاد کو پُکار کر کہا”جناب!فاروق صاحب کہہ رہے ہیں کہ آخرت میں عربی ہوگی جبکہ میں کہتاہوں کہ حساب ہو گا،اب آپ ہی بتائیں کہ روزِمحشر عربی ہوگی یا حساب؟“میں اُن کی اِس بات پر بے ساختہ مسکرا اُٹھا اور دل ہی دل میں سوچا کہ ”آخرت میں ہو گا تو حساب لیکن عربی میں “۔
   میرے سر مجیب سے ”یارانے “ کا یہ دوسرا دَور تھا۔ہفتم کے سالانہ امتحانا ت قریب تھے ،اُس وقت تک میں سر مجیب کی نظروں میں ایک امتیازی طالبعلم کی حیثیت حاصل کر چکا تھا۔سر مجیب نے ہمیں کافی دن پہلے ہی سلیبس مکمل کرا دیا تھااور اب وہ ہمیں روزانہ کچھ نہ کچھ موضوعات یاد کرنے کے لیے ہوم ورک کے طور پر دیتے تھے۔ایک دو انشائیہ سوالات کے ساتھ ساتھ ہر باب کے آخر میں دیے گئے دس پندرہ معروضی سوالات بھی روزانہ تیار کرنے کو دیئے جاتے ۔وہ معروضی سوالات میں کسی غلطی کے رَوادار نہ تھے لیکن گزشتہ دن کا سبق اُنہوں نے کبھی نہیں سُنا۔کتاب مکمل ہونے سے ایک دو دن پہلے ایسا ہوا کہ میں بھونچکا رہ گیا۔اُس دن ایسا ہوا کہ اُنہوں نے انشائیہ سوالات چیک کرنے کے بعدمعروضی سوالات سُننے شروع کر دیئے۔وہ ہر ایک سے دو ،دو معروضی سوالات سُنتے،درست ہونے پر شاباش اور غلط ہونے پر سزا دیتے ،میرے پاس آپہنچے ۔اِتفاق سے میں آخر میں کھڑا تھا،اُنہوں نے ایک سوال پوچھا،میں نے جواب دیا۔دوسرا،پھر تیسرا،وہ ایک ایک کر کے سوالات پوچھتے رہے،میں جواب دیتا رہا۔انہوں نے خلاف ِمعمول کئی گزشتہ ابواب کھنگال ڈالے ،میں کئی ایک سوالات پر لڑکھڑایا،گھبرایالیکن اُن کے ہاتھ میں لہراتی لاٹھی دیکھ کر فَر فَر جواب دیتارہا۔بالآخرانہوں نے کئی ابواب کی ”دُہرائی“ کرانے کے بعد ایک ”اُچٹتی“ نگاہ مجھ پر ڈالی،اَگلے دن کے لیے سبق دیا اور یہ جا وہ جا،کلاس سے نکل گئے۔میں کافی دیر تک پسینے میں شرابور وہیں کھڑا سر کے اِس ” عجیب“رویے ّ پر غور کرتارہا،کافی عرصہ تک جب بھی یہ واقعہ میرے ذہن میں اُبھرتا،میں ایک عجیب شش وپنج میں مبتلا ہو جاتاکہ سر نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟وہ تو بعد میں کہیں جاکر سمجھ   میں آیاکہ :
مکتبِ عشق کا دَستور نرالا دیکھا
اُس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
جماعت ہفتم میں امتیازی نمبروں سے پاس ہو کر میں ہشتم جماعت میں آگیا۔ہشتم میں ہماری کوئی بھی کلاس سر مجیب کو نہ دی گئی لیکن اتفاق سے ہمارے سائنس ٹیچر اُن دنوں ہیپا ٹائٹس-سی میں مبتلا ہوکر تین ماہ کی طویل رُخصت پر چلے گئے۔میں ہشتم کے ”سی -سیکشن“میں تھا۔ہشتم جماعت کے ”بی -سیکشن“کو سائنس سر مجیب پڑھاتے تھے ۔ایک اتفاقاََ سائنس کی کلاس کے دوران میرا ہشتم-بی میں جانا ہوا تو سر مجھے دیکھتے ہی مُسکرائے”ہاں بیٹا!بتا،تم لوگوں نے سائنس کا کتنا سلیبس پڑھ لیاہے؟“میں نے بھی مُسکراتے ہوئے اُنہیں اِس بات سے آگاہ کیاکہ ہم نے تو اَبھی کچھ بھی نہیں پڑھاکیونکہ ہمارے سر بیمار ہو کر چھٹی پر چلے گئے ہیں اور پھر میں نے وہ سُنا کہ جس کی مجھے ہر گز اُمید نہ تھی کیونکہ ہمارے سرکاری سکول میں تو مختلف سیکشنز کے وہ اساتذہ جو ایک ہی مضمون پڑھاتے تھے،اُن میں ایک سخت ”رقابت“کا عنصر پایا جاتاتھالیکن یہ بھی سر مجیب کا ہی خاصہ تھا کہ اُ نہوں نے مجھے حُکم دیا کہ کل سے سائنس کی کلاس میں پورا ”سی-سیکشن“ہشتم-بی کی کلاس میں آکر سائنس پڑھے گا۔ہمارے سر کی واپسی تک اُنہوں نے ہمیں چاریاپانچ ابواب پڑھائے ،اُنہوں نے کلاس ٹیسٹوں میں بھی ہمارے سیکشن کو اپنے سیکشن کے ساتھ ساتھ رکھااور کسی قسم کا کوئی امتیاز رَوا نہ رکھا۔
  میری سبز آنکھیں دیکھی تو سبھی نے تھیں لیکن جیسی” داد“ سر مجیب نے دی ،ویسی کسی نے نہ دی ۔ہشتم کے شروع میں اُنہوں نے سبز آنکھوں کی وجہ سے مجھے ”بِلّا“کا لقب دے ڈالا،ہشتم کا پورا سال اور نہم کے آدھے سال تک میں اُن کے لیے ”بِلّا“ہی رہا۔جماعت ہشتم میں گرمیوں کی چھٹیوں میں اُنہوں نے ایک مقابلہ منعقد کرایاکہ چھٹیوں تک ہم نے سائنس کا جو سبق بھی پڑھاہے وہ ایک نئی نوٹ بُک پہ لکھ کر لانا ہے اور ساتھ میں تمام ڈایا گرامز بھی لیبل کر کے لانی ہیں ۔چھٹیاں ختم ہوئیں تو اُن کے ”بی-سیکشن“میں سے کوئی آٹھ یا دس طلباءنے اپنی کاپیاں اِس مقابلے کے لیے پیش کر دیں ۔سر مجیب خود چل کر میری کلاس میں میرے پاس آئے اور مجھ سے میری کاپی مانگی،میں نے کاپی اُن کو دے دی۔ہمارے ٹیچر واپس آچکے تھے لیکن اُنہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ ہماری کلاس چھٹیوں سے پہلے والی روٹین پر ہی چلتی رہے اور آخری چند ابواب وہ دونوں سیکشنز کو اسی طرح پڑھا دیں گے جیسے سر مجیب ابتدائی ابواب پڑھا رہے تھے۔بہر حال ،اگلے دن دونوں ٹیچر ”ہشتم-بی“میں اکٹھے تھے،ہم سب بھی وہیں تھے ۔سر مجیب نے سر ظفر کو کوئی سر گوشی کی اور اُنہوں نے بلند آواز میں سر مجیب کی طرف سے منعقدہ مقابلے کے نتائج کا اعلان کیاجس میں مجھے پہلی پوزیشن کا حق دار قرار دیا گیا۔میری کاپی میں سر مجیب کی طرف سے دیئے گئے تیس روپے تھے اورکاپی کے سَر ورق پر اُنہی کے ہاتھوں سے لکھا گیا ایک جملہ جگمگا رہا تھا:”بِلّا بازی لَے گیا“.... (جاری ہے)

No comments:

Post a Comment